49

جاپانی سیاسی جماعت نے مصنوعی ذہانت (AI) کو اپنا نیا رہنما مقرر کر دیا

ٹوکیو(ایچ آراین ڈبلیو)جاپان کی ایک نئی سیاسی جماعت “پاتھ ٹو ری برتھ” (راہِ تجدید) نے ایک انقلابی فیصلہ کرتے ہوئے اپنی قیادت مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جاپان میں کسی سیاسی گروپ نے رسمی طور پر اپنی قیادتی ذمہ داریاں AI کو سونپی ہوں ۔

AI قیادت کے فیصلے کی تفصیلات
جماعت کے بانی اور سابق میئر شنجی اشی مارو کے استعفیٰ کے بعد، ان کے جانشین کوکی اوکومورا (25 سالہ) نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ جماعت کی قیادت اب AI کرے گی۔ اوکومورا، جو کائیٹو یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم ہیں، نے واضح کیا کہ AI جماعت کے اراکین کی سیاسی پوزیشنز یا نظریات کو متعین نہیں کرے گا، بلکہ اس کا کردار تنظیمی اور انتظامی معاملات جیسے کہ وسائل کی تقسیم پر مرکوز ہوگا ۔

جماعت کی تاریخ اور کارکردگی
جماعت “پاتھ ٹو ری برتھ” کی بنیاد شنجی اشی مارو نے اس سال جنوری میں رکھی تھی۔ اشی مارو نے 2024 کے ٹوکیو گورنری انتخابات میں ایک کامیاب آن لائن مہم چلا کر دوسری پوزیشن حاصل کی تھی، جس میں انہیں 1.6 ملین سے زائد ووٹ ملے تھے ۔ تاہم، جماعت کو حالیہ ایوان بالا کے انتخابات میں شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اشی مارو نے قیادت سے استعفیٰ دے دیا ۔

نومنتخب قیادت کا کردار
کوکی اوکومورا، جو AI کے ذریعے تعلیم سے متعلق بڑے ڈیٹا کے تجزیہ پر تحقیق کر رہے ہیں، جماعت کے名义ی سربراہ کے طور پر رجسٹرڈ رہیں گے، جبکہ عملی فیصلے AI کی رہنمائی میں کیے جائیں گے۔ اوکومورا نے کہا کہ AI کے نفاذ کے طریقہ کار اور وقت کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، اور اس سلسلے میں ایک روڈ میپ جاری کیا جائے گا ۔

ردعمل اور مستقبل کے امکانات
یہ فیصلہ جاپانی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز کر سکتا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کی مدد سے سیاسی عمل کو زیادہ موثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، اس اقدام کے حوالے سے قانونی اور اخلاقی سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں ۔

جماعت کی جانب سے یہ قدم مستقبل کی سیاست میں AI کے کردار کو مزید وسیع کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت سمجھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں