اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) وفاقی حکومت نے ملک میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور ضروریات کے جائزے کے لیے بین الاقوامی اداروں کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم کے خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔
نقصانات کے جائزے کا عمل
احسن اقبال کے مطابق، ابتدائی نقصانات کے جائزے کا کام اگلے 10 دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ حتمی تخمینے صرف اس وقت ممکن ہوں گے جب سیلاب کا پانی اتر جائے گا۔ صوبائی حکومتوں نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ درست اعداد و شمار صرف پانی کے اترنے کے بعد ہی طے کیے جا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی تعاون
وزیر منصوبہ بندی نے تصدیق کی کہ 2022 کی طرح،这一次 بھی بین الاقوامی شراکت داروں کو سیلاب کے بعد کی ضروریات کے جائزے کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ “موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے”، اور سیلاب اور خشک سالی اس عالمی بحران کے براہ راست نتائج ہیں۔
اجلاس میں شرکت
اجلاس میں وزیر خزانہ اور این ڈی ایم اے کے چئیرمین سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق، ورلڈ بینک پاکستان میں صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور ممکنہ ہے کہ ضروریات اور نقصانات کے جائزے کے حتمی ہونے پر مدد کے ممکنہ اقدامات پر غور کیا جائے۔
جائزے کے مراحل
مرحلہ مدت تفصیل
ابتدائی جائزہ 10 دن فوری نقصانات کا تخمینہ
حتمی جائزہ پانی اترنے کے بعد مکمل نقصانات کا تعین
بین الاقوامی مدد جائزے کے بعد مالی اور تکنیکی تعاون
صوبائی تعاون
احسن اقبال نے زور دیا کہ نقصانات کے جائزے صوبوں کے ساتھ گہرے تعاون سے کیے جائیں گے تاکہ شفافیت اور درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں نے اس عمل میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
ذرائع کے مطابق، ورلڈ بینک پاکستان میں سیلاب کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ممکنہ支持 کے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ بین الاقوامی ادارے جائزے کے نتائج کے مطابق مدد کے پروگرام ترتیب دیں گے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے قدرتی آفت کے موقع پر ہمدردی دکھانے کے بجائے سیاست بازی کی۔


