49

بھارتی سپریم کورٹ نے مسلم وقف ایکٹ 2025 کے کلیدی شقوں کو معطل کیا

نئی دہلی (ایچ آراین ڈبلیو) بھارت کی سپریم کورٹ نے مسلم وقف املاک سے متعلق نئے قانون وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کی کچھ اہم شقوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک بھر میں اس قانون پر وسیع پیمانے پر بحث جاری تھی۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی اہم تفصیلات
عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل بینچ نے درخواست گزاروں کی جانب سے پوری قانون سازی کو معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی، لیکن ساتھ ہی کچھ شقوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے انہیں معطل کر دیا ۔

معطل شدہ شقیں:
حکومتی اختیارات: وہ شق جس کے تحت حکومت کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی متنازعہ جائیداد کے وقف ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کر سکتی ہے ۔

پانچ سالہ اسلامی عمل کی شرط: وہ شق جس میں وقف بنانے والے شخص کے لیے پانچ سال تک مسلمان ہونے اور اسلام پر عمل کرنے کی شرط عائد کی گئی تھی ۔

غیر مسلم نمائندگی: مرکزی وقف کونسل میں غیر مسلم ارکان کی تعداد چار سے زیادہ اور ریاستی وقف بورڈز میں تین سے زیادہ نہیں ہو سکتی ۔

وقف ایکٹ 2025 کا پس منظر
یہ قانون اپریل 2025 میں پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا تھا، جسے مسلم گروپوں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلمانوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا گیا ۔ حکومت کا موقف تھا کہ اس قانون کا مقصد وقف املاک کے انتظام میں شفافیت لانا ہے ۔

وقف املاک کی اہمیت
بھارت میں وقف املاک اربوں ڈالر کی مالیت کی حامل ہیں اور ان کا استعمال مساجد، مدرسے، قبرستانوں اور یتیم خانوں کے لیے کیا جاتا ہے ۔ یہ املاک بیچی نہیں جا سکتیں اور انہیں اسلامی روایت میں قومی اوقاف کا درجہ حاصل ہے ۔

سیاسی ردعمل
حزب اختلاف: کانگریس رہنما راہول گاندھی نے اس قانون کو “مسلمانوں کے حقوق غصب کرنے کا ہتھیار” قرار دیا ۔

حکومت: وزیر داخلہ امیت شاہ کا کہنا تھا کہ اس قانون کا مقصد شفافیت لانا ہے نہ کہ مسلمانوں کے حقوق سلب کرنا ۔

عدالتی فیصلے کے اہم پہلو
شق عدالتی فیصلہ
حکومتی اختیارات معطل
پانچ سالہ اسلامی عمل معطل
غیر مسلم نمائندگی محدود
وقف بہ استعمال برقرار
ٹرائبل زمینیں برقرار
بین الاقوامی تناظر
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق پر مسلسل بحث جاری ہے ۔ عالمی میڈیا نے بھی اس معاملے پر خاصی توجہ دی ہے ۔

مستقبل کے امکانات
عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ عارضی ہے اور مقدمے کی مکمل سماعت کے دوران تمام فریق اپنے دلائل پیش کر سکتے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق، یہ معاملہ بھارت کے آئینی ڈھانچے میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ایک اہم کسوٹی ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں