مانسہرہ (نمائندہ خصوصی) سابق پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی کے حالیہ بیان نے بھارت میں سیاسی کشمکش کو بھڑکا دیا ہے، جس میں انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس رہنما راہول گاندھی کی تعریف کی۔ اس پر بی جے پی نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور آفریدی کے بیان کو “ملک دشمن” قرار دیا ہے.
بی جے پی کا شدید ردعمل
بی جے پی کے ترجمان شہزاد پوناوالا نے کہا، “حافظ سعید کے بعد، اب شاہد آفریدی راہول گاندھی کی تعریف کر رہے ہیں۔ کوئی حیرت کی بات نہیں، جو بھی بھارت سے دشمنی رکھتا ہے وہ کانگریس میں راہول گاندھی کا ساتھ مل جاتا ہے”. اسی طرح بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے آفریدی پر الزام لگایا کہ وہ “کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کا خواب دیکھتے ہیں” اور راہول گاندھی کی تعریف ان کے اصل عزائم کو ظاہر کرتی ہے.
راہول گاندھی کی رہائی کا معاملہ
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب کچھ عرصہ قبل راہول گاندھی کو الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاجی مارچ کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا. راہول گاندھی نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر ووٹ میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے، جن کا انہوں نے حال ہی میں بھی ذکر کیا.
آفریدی کی اصل بات
شاہد آفریدی نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ “بھارتی حکومت ہندو اور مسلم کا مذہبی کارڈ کھیلتی ہے تاکہ اقتدار میں رہا جائے۔ یہ ایک بہت خراب سوچ ہے۔ راہول گاندھی کی سوچ بہت مثبت ہے، وہ بات چیت پر یقین رکھتے ہیں اور ڈائیلاگ کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں”. انہوں نے یہ بھی کہا کہ “کیا ایک اسرائیل کافی نہیں جو آپ دوسرا اسرائیل بننے کی کوشش کر رہے ہیں؟”.
سیاسی اور عوامی ردعمل
بی جے پی کے ردعمل کے بعد بھارت میں اس معاملے پر سیاسی اور عوامی مباحثے تیز ہو گئے ہیں۔ یونین وزیر کرن رججیو نے کہا، “راہول گاندھی پاکستان کے لیے ہمیشہ محبوب رہے ہیں، شاہد آفریدی اور پاکستان کے لوگ انہیں اپنا لیڈر بنا سکتے ہیں”. دوسری طرف، سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید بحث جاری ہے، جہاں دونوں فریقین کے حامیوں نے اپنے اپنے موقف کا اظہار کیا ہے.
آفریدی کی دیگر حالیہ سرگرمیاں
شاہد آفریدی نے حال ہی میں ایشیا کپ 2025ء میں پاک بھارت میچ کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ “بھارت کے کچھ کھلاڑی آج بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بھارتی ہیں”، جس پر بھارت میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا. نیز، انہوں نے پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کی بھارت کے خلاف ردعمل پر تعریف کی تھی.
نتائج
شاہد آفریدی کا بیان بھارت میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان لفظی جنگ کا باعث بنا ہوا ہے، اور اس معاملے پر دونوں جماعتوں کے درمیان تناؤ برقرار ہے۔ ساتھ ہی، اس نے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ سیاسی تعلقات پر بھی سوالات کھڑے کیے ہیں۔


