اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے آٹو موٹیو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی کی آڈٹ رپورٹ میں سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کار مینوفیکچررز اور اسمبلرز گاڑیوں کی برآمدات کے ہدف پورے کرنے اور صارفین کے حقوق کے تحفظ میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کار ساز کمپنیاں صارفین سے ادائیگیاں وصول کرنے کے باوجود بروقت گاڑیاں فراہم نہیں کر سکیں۔ مینوفیکچررز بکنگ، ڈلیوری اور رقم کی واپسی کے ڈیٹا فراہم کرنے میں بھی ناکام رہے، جس سے صارفین کے حقوق کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق 20 فیصد ڈاؤن پیمنٹ پر کار بکنگ کی پالیسی کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی، جبکہ انتظامیہ اس معاملے میں ناکام رہی۔ گاڑیوں کی تاخیر سے ڈلیوری کے شکایات کے ازالے کا کوئی مؤثر طریقہ کار موجود نہیں ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کار مینوفیکچررز گاڑیاں اور پرزہ جات برآمد کرنے کے ہدف پورے نہیں کر سکے۔ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ برآمدات کا ڈیٹا اکٹھا کرنے اور کنٹریکٹرز کے معاہدوں کی نگرانی کرنے میں ناکام رہا۔
آڈیٹر جنرل نے ہدایت کی ہے کہ ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی جائے اور مستقبل میں آٹو ایکسپورٹ پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔


