57

وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف کا دورہ بنوں

بنوں (ایچ آر این ڈبلیو) وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے دہشت گردی کے خلاف اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی، جس میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے جنوبی وزیرستان آپریشن میں جامِ شہادت نوش کرنے والے 12 بہادر جوانوں کی نمازِ جنازہ میں بھی شرکت کی اور شہداء کے ورثاء سے اظہارِ تعزیت کیا۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے واضح کیا کہ “دہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا۔” انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کے سرغنہ اور سہولت کار افغانستان میں موجود ہیں، جنہیں ہندوستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کو واضح کر دیا گیا ہے کہ اسے “خارجیوں اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔” انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں افغان باشندے ملوث پائے گئے ہیں جو غیرقانونی طور پر افغانستان سے پاکستان داخل ہو کر تخریب کاری کے مرتکب ہو رہے ہیں، اسی لیے غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بروقت واپسی انتہائی اہم ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ “جو بھی خارجیوں اور ہندوستان کی دہشت گرد پراکسیوں کی سہولت کاری اور معاونت کرے گا، اسے بھی اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جس کا وہ حق دار ہے۔”

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام، ریاست اور افواجِ پاکستان ہندوستان کی ان پراکسی جنگجووں کے خلاف “بنیان مرصوص” کی طرح متحد ہیں اور ہر صورت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں