واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ قطر پر اسرائیلی فضائی حملے کا فیصلہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کیا نہ کہ ان کی انتظامیہ نے، قطر جیسے قریبی اتحادی پر یکطرفہ حملہ امریکا یا اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق منگل کو اسرائیل نے قطر میں حماس کے سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں فضائی کارروائی کی، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اس حملے کی عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے اور اسے ایک ایسا قدم قرار دیا گیا ہے جو حالات کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ہدایت دی تھی کہ قطر کو حملے کے بارے میں خبردار کریں تاہم یہ اطلاع بہت دیر سے پہنچی۔
قطر نے وائٹ ہاؤس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی قسم کا پیشگی انتباہ نہیں ملا اور امریکی اہلکار کا فون اس وقت آیا جب دوحہ میں دھماکے ہورہے تھے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ”قطر ایک خود مختار ملک اور امریکا کا قریبی اتحادی ہے، جو امن قائم کرنے کی کوششوں میں ہمارے ساتھ جرات مندانہ کردار ادا کررہا ہے۔ ایسے ملک پر یکطرفہ بمباری امریکا یا اسرائیل کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھاتی۔“


