92

پنجاب میں سیلاب سے20اموات،چنیوٹ اورجھنگ کوبچانےکیلئےبند میں دھماکےسےشگاف ڈال دیا گیا

لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)پنجاب کے تینوں دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل کے قریب بند میں دھماکے سے شگاف ڈال دیا گیا ہے، چیئرمین پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ صوبے میں سیلاب کے باعث کم ازکم 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، بیشتر اموات ڈوبنے سے ہوئیں، سیالکوٹ میں ڈوبنے والے 16 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب میں سیلاب کے پیش نظر رواز برِج کے قریب بند میں دھماکے سے شگاف ڈال دیا گیا ہے۔

ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق رواز جھنگ شہر کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے شگاف ڈالا گیا ہے، دریائے چناب کے پاٹ سے شہریوں کے انخلا کو یقینی بنا لیا گیا ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ فیصل آباد اور جھنگ انتظامیہ الرٹ رہے اور تمام افسران فیلڈ میں موجود رہیں۔

قبل ازیں ، لاہور میں چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی زیر صدارت سیلاب کی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل کے قریب بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

شاہدرہ کے مقام پر انتہائی خطر ناک اونچے درجے کا سیلاب پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی خطر ناک اونچے درجے کا سیلاب ہے، بلوکی ہیڈورکس کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جسڑ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب جبکہ سدھنائی ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ معمول پر ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب پر مرالہ کے مقام پر نچلے، خانکی کے مقام پر درمیانے اور قادرآباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ تریمو کے مقام پر پانی کا بہاؤ معمول کی سطح پر ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی خطر ناک اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانےاور اسلام ہیڈورکس پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے بھر کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ریلیف سرگرمیاں جاری ہے، دریائے راوی میں سیلاب کے پیش نظر تھیم پارک، موہلنوال، مرید وال، فرخ آباد، شفیق آباد، افغان کالونی، نیو میٹر سٹی اور چوہنگ ایریا سے محفوظ انخلا مکمل کرلیا گیا جبکہ طلعت پارک بابوصابو میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیزی سے جاری ہے۔

علاوہ ازیں، لاہور میں پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے 4 بلاکس میں پانی داخل ہوگیا تاہم رہائشیوں کو بروقت نکال لیا گیا، لاچیوالی اسکول کے ریلیف کیمپ میں 70 سے زائد افراد مقیم ہیں۔

لاہور میں 1988 میں اتنا پانی آیا تھا، ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عرفان علی کاٹھیا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب کے باعث کم از کم 20 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں زیادہ تر اموات ڈوبنے کے واقعات میں ہوئیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں گوجرانوالہ ڈویژن میں ڈوبنے کے واقعات کے نتیجے میں ہوئیں جبکہ ریسکیو سروسز کی کسی غفلت کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب حکومت ہر متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں