55

375 کھرب روپے کی مالی بے قاعدگیاں، قوم کا خون چوسنے والوں کو بے نقاب کیا جائے

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جمعیت علماء پاکستان اورملی یکجہتی کونسل کے صدرڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ پرسخت ردعمل دیتےہوئےکہا ہےکہ وفاقی محکموں اور اداروں میں 375 کھرب روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف لمحہ فکریہ ہےیہ انکشافات اس بات کاثبوت ہیں کہ حکمران طبقہ اوراداروں کےبعض ذمہ داران کرپشن اورلوٹ مارکے ذریعے قومی خزانے کو کھارہے ہیں اوربوجھ غریب عوام پرڈالاجارہا ہےانہوں نے کہا کہ ملک کا معاشی بحران صرف عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے سے حل نہیں ہوگا بلکہ اصل مسئلہ کرپشن، لوٹ ماراوراداروں کی بدانتظامی ہےاوریہی پاکستان کی معاشی بدحالی اور عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کی اصل وجہ ہے اگر یہ 375 کھرب روپے قومی خزانے میں آتے تو آج پاکستان کو آئی ایم ایف کے دروازے پر کشکول لے کر کھڑا نہ ہونا پڑتااور نہ پاکستان کوآئی ایم ایف کی شرائط ماننی پڑتیں اورنہ ہی عوام کو بجلی،گیس اورپٹرول کے بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار کا سامنا کرنا پڑتاانہوں نے کہا کہ کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں پر پردہ ڈال کر صرف عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، جو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے مطالبہ کیا کہ یہ مالی بے قاعدگیاں پاکستان کی معیشت کو کھوکھلا کرنے کی اصل جڑ ہیں لہذا ان تمام محکموں کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے،عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے لوٹی گئی قومی دولت واپس لائی جائے،آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کی روشنی میں ایک شفاف اور غیرجانبدارانہ احتسابی عمل شروع کیا جائے، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو عبرتناک سزائیں دی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں