کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیرِصدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں نہایت اہماجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بھرمیں کاروکاری قتل سمیت دیگرقتل کے مقدمات پر تفتیش، گرفتاریوں، ثبوتوں، مدعی و گواہوں کے تحفظ، عدالتی پیروی، سزاؤں اور بریت کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈی آئی جیز کرائم اینڈ انوسٹیگیشنز، ہیڈکوارٹرز، انوسٹیگیشنز کراچی، اے آئی جی ویلفیئر، لیگل،کمپلین سیل،آپریشنزاورزیرِتربیت اے ایس پیز نے شرکت کی۔ شرکاء کو اے آئی جی لیگل کی جانب سے گزشتہ ڈیڑھ سال میں کاروکاری قتل کے درج شدہ مقدمات، تفتیشی عمل، سفارشات اور بریت کی وجوہات پر بریفنگ دی گئی۔ اہم انکشاف یہ سامنے آیا کہ کاروکاری قتل کیسز میں تفتیشی طریقۂ کارپرمعززعدلیہ بھی اپنی آبزرویشن دے چکی ہے جبکہ پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم میں اب قتل سمیت تمام جرائم کی تفتیش کےلیےآن لائن چیک لسٹ اورثبوت اندراج کی سہولت دستیاب ہے۔ آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے واضح کیا کہ مقدمات کی تفتیش پولیس کی بنیادی اور اولین ذمہ داری ہے، اس عمل میں کسی بھی قسم کی کمی، کوتاہی یا گٹھ جوڑ ناقابلِ برداشت ہوگا۔ انہوں نے حکم دیا کہ ہر ایک کاروکاری مقدمے میں افسران اپنی علیحدہ تفصیلی سفارشات تیار کریں، جن میں سزاؤں کی سفارشات، ذمہ داریوں کا تعین اور کوتاہی کی نشاندہی شامل ہو۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ بہتر کارکردگی دکھانے والے تفتیشی افسران کے لیے کیش ریوارڈ اور اسناد تجویز کی جائیں اور ساتھ ہی ماہر اور باصلاحیت افسران پر مشتمل خصوصی پول تشکیل دینے کی تجاویز دی جائیں تاکہ کاروکاری اور دیگر قتل کے مقدمات کی کامیاب اور مؤثر تفتیش کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ ضلعی افسران کاروکاری اور قتل جیسے مقدمات میں فی الفور ایف آئی آر درج کریں، کاروکاری قتل کیسز ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیے جائیں اور ان کی نگرانی ڈی ایس پی رینک کے افسران کریں۔ تبادلے کی صورت میں بھی متعلقہ ایس ایچ او چالان کے عدالت میں داخل ہونے تک مقدمے کی پیروی کا پابند ہوگا۔ مزید برآں آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی ٹریننگ کو ہدایت دی کہ کاروکاری قتل سمیت تمام قتل کے مقدمات پر تفتیشی کورسز متعارف کرائے جائیں تاکہ پولیس کے افسران مزید پیشہ ورانہ اور مضبوط تفتیشی کردار ادا کر سکیں۔
50


