44

کراچی،حیدرآباد سےلاپتہ متحدہ قومی موومنٹ کےکارکنان کوبازیاب کروایا جائے،رابطہ کمیٹی

کراچی،حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد سے ایم کیو ایم کے معصوم کارکنان اور ہمدردوں کی جبری گمشدگیاں دراصل ریاستی دہشت گردی اور کھلی بربریت کی بدترین مثال ہیں۔ 14 اگست سے قبل پولیس اور رینجرز نے کراچی سے محمد عمران ولد محمد اکرم علی، سید قمر علی ولد سید غضنفر علی کو اور حیدرآباد سے عامر حسین صدیقی، ارشد زئی اور وسیم خان ولد عبد الحمید کو اغوا کیا جنہیں تاحال کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور آج تک ان کا کوئی پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں اور انہیں کس الزام میں اٹھایا گیا ہے۔ جبری گمشدگیوں کی وجہ سے ان کے اہل خانہ دن رات اذیت اور کرب میں مبتلا ہیں۔

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ یہ جبری گمشدگیاں نہ صرف آئینِ پاکستان بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ہم سپریم کورٹ اور آزاد عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر نوٹس لیں اور ان بے گناہ مہاجر نوجوانوں کی بازیابی کو یقینی بنائیں۔ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور ہر گزرتا لمحہ ریاستی ظلم کی بھیانک تصویر پیش کر رہا ہے۔

ہم عالمی برادری ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورذیوں کا نوٹس لیں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ ایم کیو ایم اعلان کرتی ہے کہ ہم اس ریاستی جبر کے آگے کبھی سر نہیں جھکائیں گے اور اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے اور ہر فورم پر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں