کراچیٍ(ایچ آراین ڈبلیو)مہاجراتحاد نیشنل موومنٹ کے چیئرمین محمد انور نے بہاری کمیونٹی اور اورنگی کے متاثرین لینڈ گریبرز کی دعوت پرواٗس چیئرپرسن روبینہ یاسمین، جنرل سیکریٹری یونس میمن، سیکریٹری عقیل انبالوی اور آرگنائزر عباس رضوی اور کمیٹی اراکین دلاور، ساجد بہاری، اصغر،نعمان، زبیرشاہ کے ہمراہ اورنگی میں دس نمبر پر جمیل احمد کی رہائش گاہ پر ظہرانے پر عوامی وفود اور متاثرین سے ملاقات کی۔ مسجد کےمنتظمین اور مختلف این جی اوز کے نمائندوں نے ملاقات کی۔ محمد انور نے کہاکہ کراچی کے متعدد علاقے قبضہ مافیا کےچنگل میں ہیں لانڈھی میں نان کلاس لینڈ پرقبضہ اور سرجانی، کورنگی، نیو کراچی بھی بہت متاثر ہیں۔ لیکن اورنگی میں چائنا کٹنگ کے ماضی کےبھی ریکارڈ توڑدیئےگئےہیں۔ محترمہ بےنظیربھٹوکے اسٹیڈیم کی جگہ کو پیپلز پارٹی کے عہدیداروں نے کرمنل اور کرپٹ افسران کے ساتھ ملکر نیاناظم آبادکو بیچ دیاہے۔ میئر کراچی کو ہم کراچی کا مسیحا سمجھتے تھے لیکن یہاں آکر ثبوت دیکھ کر میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہوں۔ انہوں نے متاثرین کے ساتھ گلشن ضیاء میں دورہ کیا جہاں انہیں وہ افراد بھی دکھائے دیئے۔جو پی ڈی اورنگی کے افراد اور مسلح تھے۔ جبکہ سٹی وارڈنز تعینات تھے۔ سودے بازیوں کے بھی ثبوت ملے۔ جبکہ میونسپل کمشنر افضل زیدی کے بیٹرز بھی سامنے آئے۔ خیر آباد کے مقام پر پی پی پی کی اعلی شخصیات کے ملوث ہونے پر انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو گھر بنوا رہے ہیں اور انکے لوگ گھر اجاڑ رہے ہیں سرکاری زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔شانی، فاروق اور اسٹیٹ ایجنٹسنے غیر قانونی آکشن کے ثبوت فراہم کئے۔یونس میمن نے ڈپٹی کمشنر یماڑی سے بات کی تو انہوں نے اس کاروائی سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے پی ڈی اورنگی اور مافیاز کی کاروائی قرار دیا۔ سابق رکن اسمبلی اور اے این پی کے وفد سے ملاقات میں مزید انکشافات ہوئے کہ بنارس پر دکانیں بنائی جا رہی ہیں۔ مسجد کے احاطے کو توڑ کر دکانیں تعمیر کرنے کے منصوبے اور نالوں کی تعمیرات بھی دکھائی گئیں۔ جنکی ویڈیوز ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کراچی کو بھیج دی گئیں۔ محمد انور نے کہا کہ کے ایم سی کرپٹ اور جعلساز افسران کے نرغے میں رہی تو کنگال ہوجائے گی۔ میئر کی سیاست کے بجائے خدمت پر نظر ہونی چاہئے۔ چرب زبانی کے بجائے میونسپل کمشنر کے کہنے پر کٹھ پتلی بننے کے بجائے اپنی رٹ پہچانیں۔ میڈیا بھی یہاں آکر دیکھے کہ کس طرح اصل افراد کو ہٹا کر باہر سے سسٹم مافیا گوٹھوں سے لا کر لوگ مہاجر وں کی املاک پر بٹھارہے ہیں۔ انہیں سعود اجمل نے بتایا کہ اینٹی کرپشن کورٹ میں کیس چل رہا ہے لیکن میونسپل کمشنر نے اینٹی کرپشن کو کاروائی پی ڈی کے حق میں کرنے کی ہدایت کی ہے اور شاہنواز و دیگر پرانی تاریخوں میں جعلی دستاویزت تیار کرچکے ہیں۔ سیف عباس اور وصی عثمانی ایم کیو ایم کے ورکرز ہیں افضل زیدی بھی سپورٹر ہیں وہ سب ملکر کھچڑی پکا رہے ہیں۔ محمد انور نے کہا کہ ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ علی خورشیدی، امین الحق کو شرم آنی چاہئے۔ وہ خاموش بیٹھے ہیں۔ہم نے حقائق پتہ کرلئے ہیں اب ہم قانونی مدد بھی کریں گے۔ جعلی دستخط اور دیگر شکایات کی مکمل رپورٹ وزیر اعلی کو بھیجیں گے۔ چیئرمین اینٹی کرپشن بائسٹ رپورٹس کے بجائے نیوٹرل افراد کو فیصل رضوی نامی فرد اور اسکی کرمنل ٹیم جعلسازیوں کی تحقیقات کرائیں۔ جج اینٹی کرپشن بھی تحقیقات کرائیں۔ مہاجر گھرانوں کو بے گھر ہونے اور پرانی تاریخوں میں انٹریز کے علاوہ ریٹائرڈ ملازم جمال اختر جو الاٹمنٹ رجسٹر میں جعلی انٹریز کر رہا ہیجس سے لوگوں کو بے گھر کیا جا سکے۔ کس قانون کے تحت وہ تعینات ہے دس سال فرار رہنے والے پی ڈی کو ایک کروڑ روپے لے کر دو عہدے دینے اور ماہنانہ وصولی کی اطلاعات کی بھی تحقیقات کرائیں۔ ہم بھی بہت سی شہادتیں۔ اغوا اور کرمنل ریکارڈ پیش کرنے کو تیار ہیں۔ محمد انور نے ساڑھے گیاہ اورنگی میں تنظیمی اجلاس بھی کیا۔ جبکہ بہاری کمیونٹی بہاری قومی موومنٹ کے عشائی میں مقامی بینکویٹ میں بھی شرکت کی۔ اورنگی میں جلسہ کرنے کی دعوت بھی قبول کرلی۔
57


