کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ڈسٹرکٹ کیماڑی بلدیہ ٹاؤن اور اطراف کے علاقوں میں گندگی، بدبو اور غیر معیاری خوراک کا راج قائم ہو چکا ہے، جہاں ہوٹلوں میں نہ صفائی کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی صحت کے اصولوں کی پابندی کی جا رہی ہے۔ کھانے پکانے والے عملے کا حلیہ اورہاتھ میلے،برتن بدبودار، اور ماحول ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے، لیکن فوڈ ڈیپارٹمنٹ مکمل خاموش تماشائی بنا ہوا ہے حال ہی میں اک واقعہ رہنما ہوا ہے 24 مارکیٹ کے اک ہوٹل کے خانے کی وجہ سے ہوابہت جلد مکمل تفصیل کے ساتھ ذرائع کے مطابق کئی مقامات پر ہوٹل مافیا نے گلیوں اور سڑکوں پر کرسیاں اور میزیں لگا کر عوامی راستے بند کر دیے ہیں، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شام کے اوقات میں ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے، اور متعدد بار ایمرجنسی کی گاڑیاں بھی گھنٹوں راستے میں پھنسی رہتی ہیں۔بلدیہ انتظامیہ اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت کا انکشاف ہوا ہے-شہریوں کا کہنا ہے کہ ہوٹل مالکان بلدیاتی عملے اور فوڈ انسپکٹرز کو باقاعدہ “ہفتہ” دے کر کارروائی سے بچ نکلتے ہیں-
بلدیہ ٹاؤن میں غیر معیاری بیکریوں کا حال آپ سب با خوبی جانتے ہیں کے جہاں یہ مال بنتا ہے کس طرح بنایا جاتا ہے سب کچھ نیکسٹ قسط میں ویڈیو کے ساتھ بہوت جلد عوام کے سامنے لایا جائے گا-۔ یہی وجہ ہے کہ نہ کبھی کوئی چھاپہ مارا ہی نہیں جاتا ہے اور نہ ہی کسی ہوٹل کو جرمانہ کیا جاتا ہے۔
فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بھی طویل عرصے سے کسی قسم کی نگرانی یا معائنے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ کھلے عام غیر معیاری تیل، گندے برتن اور نالوں کے کنارے رکھے کھانے شہریوں کو بیمار کر رہے ہیں، لیکن متعلقہ ادارے مکمل طور پر لاتعلق ہیں۔ویڈیو ثبوتوں کے ساتھ انکشافات جلد منظر عام پر لائے جائیں گے-
شہری حلقوں اورڈسٹرکٹ کیماڑی پریس کلب کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جلد ہی ویڈیو ثبوتوں کے ساتھ اس سنگین غفلت کو عوام کے سامنے لایا جائے گا-ان ثبوتوں میں یہ دکھایا جائے گا کہ کس طرح ننگے ہاتھوں اور گندے ماحول میں خوراک تیار کی جاتی ہے-صفائی کے بغیر گاہکوں کو کھانا دیا جاتا ہے-
اور کس طرح یہ سب کچھ انتظامیہ کی نظر کے سامنے جاری ہے۔عوامی حلقوں نے متعلقہ حکام، بشمول کمشنر کراچی، ڈی جی فوڈ اتھارٹی، اور وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری ایکشن لیا جائے، ورنہ وہ نام، چہرے اور ہوٹلوں کے مقام سمیت تمام تفصیلات میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر جاری کر دیں گے۔


