43

حافظ نعیم کا وفاق میں انتخاب جماعت کی بڑی سیاسی غلطی

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)جماعت اسلامی سے ایک بڑی سیاسی غلطی ہوئی ہے جس کا انہیں ملک کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری مرکز میں نقصان اٹھانا پڑرہاہےاور شاید طویل عرصہ اسے پچھتا نا پڑے گا اور ممکن ہے مستقبل میں پھر اسے ایسا موقع نہ ملے جماعت کو حافظ نعیم الرحمان کوکراچی کی امارت سےاٹھاکروفاق میں نہیں لے جانا چاہیے تھا حافظ کے جارحانہ اور مدلل انداز تخاطب و سیاست نے جماعت کو کم از کم 4 دہائیوں بعد کراچی کی مقبول اور متبادل قیادت کی صف میں لاکھڑا کیا تھا جماعت کی شورا شاید یہ اندازہ لگانے میں ناکام رہی کہ ہرشخص میں ہرجگہ اپنی صلاحیتوں کا نورافگن ممکن نہیںحافظ کی سیاسی بصیرت فہم وادراک تھا ہی کراچی کےعوامی مسائل پر بروقت چوٹ مارکران کےجذبات میں تلاطم پیدا کرنااورپھرایک کامیاب سیاستداں کی حیثیت سےانہیں اپنی جماعت یا منشور کے تحت استعمال کرکے طاقت کاوہحصول جوفیصلہ سازوں کو انہیں سننے اور اہمیت دینے پر مجبور کردے اگر میں غلط نہیں تو وہ نہ صرف حصول مقصد کے بہت قریب پہنچ چکے تھے بلکہ کراچی والوں کی حقیقی ہمدردیاں سمیٹ کر نتائج سے کچھ ہی دور تھے کہ ایک بہت غلط وقت پر لیے گئے فیصلہ نے جماعت کو پھر سے 4 دہائیاں پیچھے دھکیل دیا پچھلے چند برسوں میں کراچی میں سیاسی گروپوں اور جماعتوں کی اب تک کی مقبولیت کےنتائج جس میں کہیں کہیں ہم طاقت وروں کی اضافی حمایت کوبھی شامل کرلیں تب بھی سامنےآتا ہے انڈا اور صرف انڈا شاید اس شہر کے باسی لسانی سیاست اوراس کےنتائج سےمایوس اوربہت حد تک خوف زدہ ہوگئےہیں اوراسی لیےانہوں نے اردو بولنے والے 2 کروڑ شہریوں کے سابقہ قائد کی باقیات سمیت اسٹبلشمنٹ کی طرف سے اسی چوغہ میں پروئے پرانے چہرے نئے میک اپ کے ساتھ کو یکسر مسترد کردیا ہے ان کی نئی نسل جو کوٹہ سسٹم عصبیت زدہ ماحول اور خاص طور پر وفاقی حکومت کی لاپرواہی اور سندھ حکومت کے سوتیلے سلوک سےدل برداشتہ اورسخت ناراض ہے کے لیے حافظ نعیم اور ان کا سیاسی ایجنڈا نعمت مترقبہ تھا یہاں نظام قدرت کے تحت انسانی صلاحیتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر شخص ہر کام نہیں کرسکتا یہی وجہ ہے کہ حافظ نعیم جیسا زیرک سیاستداں جو کل کراچی کا بلا شرکت غیرے مقبول لیڈرتھا وفاق میں اپنے 2024 کے انتخاب کے بعد سے جماعت کی سیاست میں کوئی ہلچل نہ لا سکا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سابقہ فقیر منش قائد کی چھوڑی مقبولیت کو بھی برقرار نہ رکھ سکا کیونکہ وہ پیدا ہی کراچی کی سیاست میں مقام بلند کے لیے تھا اور اکثر سیاسی مبصرین اس امر پر یک رائے تھے کہ کراچی کے گونہ گوں مسائل کے حل کے لیے حافظ نعیم بہترین قائد ثابت ہوں گےل وہ کراچی کے بیٹے تھے یہیں پلے بڑھے اور تعلیم حاصل کی اسکول سے یونیورسٹی تک مخصوص ماحول میں فارغ التحصیل ہوے جہاں روز نعرہ لگتا تھا قائد کا جو غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے چاہے وہ مہاجر اور جدی پشتی اردو بولنے والا ہو مگر۔

سولی پر لٹکتے ماحول میں روزانہ لاشوں کے ڈھیر اور گولیوں کی تڑ تڑاہٹ میں جوانی تک پہنچنا اس شہر میں معجزہ سے کم نہیں تھا اسی خونی ماحول سے نکلا ایک ڈھلتی عمر کا سیاسی کارکن اپنی قوم کے سلگتے مسائل پر جرئت مندانہ موقف کے ساتھ میدان میں اترا تو نئی نسل کو اس نے خوب متاثر کیا اور اس کے دل کش نعروں اور درست مسائل کی نشاندہی پر آج کے نوجواں کو وہ اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور حکمران جماعت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کی للکار نے اسے ہیرو کا درجہ دیدیا تھا جانے جماعت کی شوری یہ کیوں بھول گئی تھی کہ حصول تاج و تخت کا راستہ کراچی ہی سے نکلتا ہے جس نے کراچی فتح کرلیا وہ ملک کی فیصلہ کن قوت بن جاتاہے مگر کاش وہ کچھ اور صبر کرلیتے تو آج پی پی خون کے گھونٹ پی رہی ہوتی دراصل اس کی بھی مجبوری ہے کہ سندھی نوجوانوں کا اردو بولنے والوں سے سیاسی شعور کہیں بہتر ہے اسی لیے وہ 14 سال سےصوبے کی حکمراں جماعت کے بڑے ناقد ہیں اور ان کی ننگی تنقید اور نفرت سے خوف زدہ وڈیرے، پیر، سید اور افسر شاہی عصبیت کے نعرے لگا کر انہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتے ہیں اس طرح وہ اپنا ووٹ بینک محفوظ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں جبکہ مہاجروں کی ناراض نسل اس کھیل کو سمجھنے کی بجائے اپنے چڑ چڑے مزاج سے گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کو دوبارہ سے فروخت کرکے کروڑوں روپیہ کمانے کے کھیل کو وہ اجرک پر تنقید کرکے اور ناشائستہ جملوں کے استعمال سے حکمرانوں کا منصوبہ کامیاب بنادیتے ہیں حالانکہ حکومت کے تو عزائم ہی یہ تھے کہ ناراض سندھی نوجوانوں کو اجرک کی کشش میں مبتلا کرکے ان کی نفرت سے چھٹکارہ پالے جند عاقبت نا اندیش مہاجر نوجوانوں کے رویہ کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب بھی ہو ہی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں