77

یومِ آزادی کے موقع پرابراہیم حیدری ریڑھی گوٹھ میں پاکستان معرکہ حق ریلی کا انعقاد

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)یومِ آزادی پاکستان کےموقع پر ضلع ملیر کے علاقے ابراہیم حیدری ڈویژن لال آباد ریڑھی گوٹھ میں ایک شاندار، منظم اورولولہ انگیز”پاکستان معرکہ حق ریلی” کا انعقاد کیا گیا،جس کی قیادت شہید چوہدری اسلم فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن میڈم نورین اسلم اور پا کستان پیپلز پارٹی کے معروف رہنما غنی جت نے مشترکہ طور پر کی۔ یہ ریلی نہ صرف ایک عوامی اجتماع تھی بلکہ قومی یکجہتی، حب الوطنی اور پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے عزم کا ایک بھرپور مظاہرہ بھی تھی۔ریلی میں معروف سماجی کارکنان راجہ اسرار، راجہ امتیاز، نعمت اللہ خان، فیصل کشمیری اور رمضان بالی سمیت علاقہ معززین اور نوجوان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ کئی خواتین،بزرگ اور بچے بھی سبز و سفید پرچم تھامے حب الوطنی کے رنگ میں رنگے ہوئے موجود تھے۔ریلی کا آغاز ریڑھی گوٹھ لٹھ بستی سے ہوا، جہاں سے جلوس مرتضیٰ چورنگی سے گزرتا ہوا لانڈھی داؤد چورنگی پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ راستے بھر پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد،اورکشمیربنےگاپاکستان کےفلک شگاف نعرے لگتےرہے،جنہوں نےفضا کو قومی ولولے اور جذبے سے معمور کر دیا۔ دکانوں، گھروں اورعمارتوں پرسبزہلالی پرچم لہرارہے تھے، اور ہر گلی محلے میں جشن آزادی کی چمک دمک نمایاں تھی۔میڈم نورین اسلم نے اپنے پرجوش خطاب میں کہا کہ پاکستان لاکھوں شہداء کی قربانیوں سے حاصل ہوا ہے، اس لیے اس کی حفاظت ہم سب کا اولین فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی ایک انمول نعمت ہے، اور دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، ہم اس کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ نورین اسلم نے یہ بھی کہا کہ ملک کے دفاع اور عوامی خدمت کے لیے وہ ہمیشہ صفِ اول میں رہیں گی، اور شہید چوہدری اسلم کا مشن جاری رکھیں گی۔غنی جت نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل صرف اس وقت روشن ہوگا جب ہم سب مل کر ایمانداری، قربانی اور اتحاد کے اصولوں پر عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن نوجوانوں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ صرف تقریروں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی میدان میں اتر کر ملک کے دفاع اور ترقی میں کردار ادا کریں۔ریلی کے شرکاء نے کہا کہ نورین اسلم اور غنی جت جیسے رہنما ہی عوام کے دلوں کی آواز ہیں، جو نہ صرف تقریر کرتے ہیں بلکہ عوامی مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھاتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، خوشحالی اور ترقی کے لیے اجتماعی دعا کرائی گئی، جس میں ہر فرد نے پرعزم انداز میں آمین کہا۔ فضا ملی نغموں کی دھنوں سے گونجتی رہی، اور عوام وطن سے اپنی محبت کے عملی ثبوت کے ساتھ گھروں کو لوٹے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں