کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)پریس کلب پر 13اگست اور 14اگست کی درمیانی شب منعقد ہونے والا مرکزی پروگرام میری پہچان پاکستان کا بڑا پاور شو تھا۔ جس نے کراچی میں اسکے مضبوط نیٹ ورک اور مقبولیت کو واضع کردیا۔ یہ تقریب رات گئے تک جاری رہی۔ جس میں کراچی کے تمام ٹاؤنز کے ورکرز اور عوام کی بڑی تعدا د نے شرکت کی۔
پروگرام رات گئے تک جاری رہا اور آخر تک عوام کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔نیشنل اسٹیڈیم میں میوزیکل کنسرٹ کے باوجود میری پہچان پاکستان کا پاور شو جاندار، دیدنی اور شرکاء مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے کے باوجودبڑی تعداد میں موجود تھے۔ مرکزی کمیٹی کے انچارج نہال احمد صدیقی، فاروق ملک، محمد پناہ پنہیار، ریحان خان، سیف یار خان ودیگر اراکین خود کاموں کی نگرانی اور کاموں میں حصہ لے رہے تھے۔
ایڈوائزری کونسل کے اراکین عمر فاروق، میجر (ر) اظہر فخر الدین،شعبہ خواتین، شعبہ اطلاعات، انتظامی کمیٹی کے اراکین، سب متحرک تھے۔پنڈال میں سیدعاصم منیر فیلڈ مارشل، ڈاکٹر عشرت العباد خان، قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، قومی پرچم اور مختلف بینرز آویزاں تھے جن پر درج تھا۔
جشن فتح بنیان المرصوص قوم کو مبارک ہو،جشن آزادی تحریک پاکستان کے شہداء ، پاکستان بننے سے ابتک شہید جوانوں اور دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کو قو م خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے ۔ جشن آزادی مبارک۔ہم سب کی پہچان۔۔۔۔۔پاکستان پاکستان،ہمارا ویژن۔۔۔۔ریاست، پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد ۔،پاکستان بنایا تھا۔۔۔۔۔پاکستان بچائیں گے۔۔۔۔۔میری پہچان پاکستان،معرکہ حق کی کامیابی۔۔۔۔۔افواج پاکستان زندہ باد،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر قوم کا فخر ہیں۔۔۔۔۔جشن آزادی دوبالا کرنے پر افواج پاکستان کو ہر پاکستانی کا سلا م۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان قوی وحدت کی علامت۔۔۔۔۔میری پہچان پاکستان،نئی سوچ۔۔۔۔وطن پرستی۔۔۔۔۔قوم کی ترقی۔
جہلم میں بڑی تعدا د میں جمع عوام نے پرچم کشائی کے بعد ملی نغمے اور قومی ترانے پیش کئے۔ڈاکٹر عشرت العباد کے ساتھ یکجہتی اورمیری پہچان پاکستان۔ جیوے جیوے پاکستان کے نعرے لگائے۔ یکم اگست رات باہ بجے شروع ہوتے ہی تقاریب کا آغاز ہوگیا تھا۔ نہال صدیقی،فاروق ملک، ریحان خان، سیف یار خان، مقصود قریشی، آصف قدوس، سلیم سہروردی،عامر علی، سہیل، و دیگر نے مختلف علاقوں میں پرچم کشائی قومی ترانے کے ساتھ کی۔ روزانہ کئی کئی پروگرام منعقدہوئے جبکہ تمام صوبوں میں تقاریب روزانہ کی بنیاد پر ہوئیں۔
،۔ اسلام آباد میں دو پروگرام منعقد ہوئے جس میں اسلام آباد کے مرکزی دفتر کا افتتاح اور شاندار تقریب منعقد ہوئی،۔ دوسرا پروگرام شعبہ خواتین کی جانب سے منعقد ہوا۔ جس میں بہتبڑی تعدا میں خواتین نے شرکت کی۔تیسراپروگرام مانسہرہ میں کیپٹن ریٹائرڈ صٖفیہ کی جانب سے منعقد کیا گیا۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے خطابات کئے۔
حیدر آباد،ٹنڈوالہ یار، ٹنڈو جام، سکھر، میرپورخاص، گھوٹکی، جیکب آباد، ننگر پارکر، تھرپارکر، سمیت سندھ میں بھی ایم پی پی کی تقاریب ہوئیں۔ ایم پی پی کے ہندو کمیونٹی کے رہنما چیلا رام سونی نے تقاریب میں شرکت کی۔ایم پی پی کے جشن آزادی کی تقریب میں شرکاء کا جزبہ دیدنی تھا۔ وطن پرستی سے سرشار عوام نے قومی ترانے پر کھڑے ہو کر قومی ترانہ پڑھا جسکے بعد سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے خطاب شروع کیا۔
ایم پی پی کے ایک سال میں متحرک کردار اور متعدد پروگراموں کے بعد اسکی اہمیت اور پورے پاکستان میں پزیرائی نے اسے منفرد جماعت بنادیا ہے۔ڈاکٹر عشرت العباد معتدل مزاج، وطن پرست اور غیر متنازعہ شخصیت ہیں جنکے ساتھ ہر اکائی شامل ہیجو کراچی سے سیاست کرنے والے کسی بھی لیڈر کی پہلی وفاقی سطح کی بڑی کامیابی ہے۔
متعدد شخصیات کی جلد شمولیت کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ کئی گروپس اور پاکستان پرست جماعتیں پہلے ہی ایم پی پی کا حصہ بن چکی ہیں۔شن آزادی، جشن فتح بنیان المرصوص کی تقاریب میں ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ جس کو سیاسی پنڈت حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔


