کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کراچی پریس کلب پر میری پہچان پاکستان کا منفرد پروگرام کراچی کے لئے ایک اضافہ اور پاور شو تھا جس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوائزی کونسل کے رکن ڈاکٹر عمر فاروق نے کہاکہ 78واں جشن آزادی منفرد اور نئے جزبے کے ساتھ فاتح کی طرح منا رہے ہیں۔ڈاکٹر عشرت العباد خان کی قیادت میں نئی سوچ کے ساتھ ملک کو عظیم مملکت بنائیں گے۔ آزادی نعمت ہے پاکستان کو بہترین فیلڈ مارشل اور اللہ کی رحمتوں سے کامیابی ملی۔ آج کراچی کے عوام میوزیکل پروگرام چھوڑ کر ہمارے پروگرام میں موجود ہیں جو ڈاکٹر عشرت العباد کی قیادت پر انکا اعتماد و کامیابی ہے۔ ایڈوائزری کونسل کے رکن ریٹائرڈ ایئر کموڈور المعرورف میجر اظہر فخر الدین نے جوشیلے خطاب میں کہا کہ فوج ہے تو پاکستان ہے۔ ہم شہادتکی خواہش رکھتے ہیں۔ پاکستان عظیم ریاست اور افواج پاکستان عظیم فوج ہیں ۔پاکستان قائم رہنے کے لئے بنا ہے۔ اسکی طرف میلی نگاہ سے دیکھنے والے نیست و نابود ہوں گے۔ افواج پاکستان ہماری جانباز فوج انشاء اللہ ہمیشہ ناقابل شکست رہے گی۔ مرکزی کمیٹی کے انچارج نہال احمد صدیقی نے کہاکہ پاکستان ہم سب کی ریڈ لائن ہے۔ڈاکٹر عشرت العباد خان وطن پرست رہنما ملک کیلئے ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ہم نے ہر یونین کونسل میں پروگرام کیا۔ ٹاؤنز کے الگ پروگرام ہوئے پورا پاکستان میری پہچان پاکستان کے نعروں سے گونج رہا ہے۔ مرکزی رکن محمد پناہ پنہیار نے کہا کہ پوری قوم متحد ہے۔ فیلڈ مارشل پر قوم کو فخر ہے۔ پاکستان دنیا کے بہترین ملک میں شامل ہوچکا ہے۔ کراچی تا خیبر میری پہچان پاکستان کی گونج ہے۔ ہماری خصوصیت یہ ہے کہ ہم سب ایک قوم بنکر کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے سب کو ایک لڑی میں پرودیا ہے۔ لسانیت ملک کے لئے زہر ہے وطن پرستی کامیابی کی کنجی ہے۔ مرکزی رکن سیف یار خان نے کہاکہ میری پہچان پاکستان ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ افواج پاکستان ہماری آن جان شان ہیں۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان ملک میں امید کی کرن جگا چکے ہیں۔ پاکستان کو عظیم مملکت بنائیں گے۔جو یہ سوچتے تھے کہ متحد قوم کو منتشر قوم بنا کر پاکستان پر وار کریں گے وہ سبق حاصل کرچکے ہیں۔ بھارت کو سبق سکھا دیااب پراکسی وار کرنے والے بھی نیست و نابود ہوں گے۔ ڈاکٹر عظمی نے کہاکہپاکستان دنیا کے خطے پر امن پسند اور بین الاقومی قوانین کا احترام کرنے والا طاقتور ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک بن کر ابھرا ہے۔ خواتین ایم پی پی کا اہم جز ہیں۔ دیگر رہنماؤں وکلاء، تاجر برادری، میڈیا اور مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
67


