کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) ناظم آباد تھانے میں تعینات بدنام زمانہ اور کرپٹ منشی قیوم کو ایک بار پھر اسی تھانے میں تعینات کردیا گیا ہے جس پر نہ صرف پولیس اہلکار بلکہ مقامی صحافی برادری بھی تشویش میں مبتلا ہے ۔ ذرائع کے مطابق قیوم جعلی اور فیک نمبروں کے استعمال میں مہارت رکھتا ہے اور تھانے کے اندرونی معاملات کو من گھڑت خبریں بنا کر پیش کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی بشمول چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قیوم طویل عرصے سے ناظم آباد تھانے کے عملے کو ذاتی مفادات کے لیے دباؤ میں رکھتا ہے اور انہیں یرغمال بنا کر اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھاتا ہے جیسا کہ قیوم کی رہائش بھی ناظم آباد تھانے کے کوارٹرز کی ہے اس وجہ سے قیوم کی علاقے میں موجود تمام تر جرائم پیشہ افرادوں سے سیٹنگ ہے ۔ قیوم کی قبل ازیں تبدیلی کے بعد اہلکاروں نے سکون کا سانس لیا تھا تاہم اس کی دوبارہ ناظم آباد تھانے میں تعیناتی نے ایک بار پھر تھانے کے ماحول کو کشیدہ کر دیا ہے – مزید برآں قیوم پر الزام ہے کہ اس نے فیک نمبر کا استعمال کرتے ہوۓ ناظم آباد تھانے سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی صحافی کی ذاتی معلومات اور فیملی ڈیٹا حاصل کرکے لیک کرنے اور وائرل کرنے کی دھمکیاں دیں ۔ اس طرزِ عمل نے صحافتی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے اور اسے آزادیٔ صحافت پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی حلقوں اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کو اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف قیوم بلکہ محکمے میں موجود ایسی تمام کالی بھیڑوں کے خلاف سخت اور شفاف کارروائی کرنی چاہیے جو پولیس کے عہدے اور اختیارات کا سہارا لے کر محکماۓ پولیس کے ادارے کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں۔
50


