کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)اب ہم پولیس کے پیچھے پڑ گئے ہیں وائس وائرل ہوگئی ادارے نوٹ کرلیں-صحافت کی آڑ میں بلیک میلنگ نشاندہیوں پہ نشاندہی تحقیقاتی اداروں نے تفتیش شروع کردی کئی نام نہاد جعلی اور بلیک میلر خود ساختہ صحافی لپیٹ میں آنے کا خدشہ-
کورنگی میں صحافت کے نام پہ جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی ہوگئی بے نقاب فحاشی کے اڈوں کی مکمل سرپرستی اور ٹھیکہ وائس سامنے آگئی ادارے نوٹ فرمالیں کس قدر صحافت کو بدنام کیا جارہا ہے
ذرائع مطابق ایک ہفتہ پہلے خود کو سینئر صحافی کہنے والا اور جوا سٹہ اڈہ چلانے والے کو فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (FIA) نے دھڑلیا جن کی تفتیش اب بھی جاری جوکہ اگلی قسط میں لکھوں گا
ضلع کورنگی کے اعلیٰ پولیس افسران، دفاعی ادارے، تحقیقاتی ادارے متوجہ ہوں میں اس وائس کے ذریعے آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ کس طرح پولیس کو چند انپڑھ جعلی صحافی بلیک میل کررہے ہیں کچھ نام نہاد صحافی ان کے سرپرست بن بیٹھے ہیں جوکہ خود آئی آرز میں موجود رہے ہیں
پولیس ذرائع کے مطابق جاوید منگی نامی خود ساختہ جعلی اور انپڑھ صحافی کی ایک وائس منظر عام پہ آ گئی ہے جس میں وہ تھانہ کورنگی کی حدود میں چلنے والے فحاشی کے اڈے کی مالک نائکہ صائمہ اور اس کے بیٹے حیدر سے مخاطب ہو رہا ہے
جس میں موصوف جاوید منگی یہ کہہ رہا ہے کہ حیدر جس کمپیوٹر والے نے آج خبر بنائی ہے دو خبریں اس سے اور پولیس کی بنوائی ہیں اس کو تھوڑا خرچہ بھیج دے تاکہ خبریں ہماری بناتا جائے گا گروپوں میں ڈالتا جائے گا
اب پولیس کے پیچھے ہم لگ چکے ہیں اب آج ان کو ڈنڈا صحیح چڑھاتے ہیں اس کو یاد سے پیسے بھیج تاکہ صبح کو دس 12 خبروں میں دو تین چیئنلوں میں یہی خبر لگ جائے گی یہ یاد سے بھیج دے اور کال کرکے پوچھ اخبار والے سے آپ کو مل گئے پیسے
میں تمام اداروں کو یاد دلاتا جاؤں کہ ایک ہفتہ پہلے جاوید منگی اور اس کے ساتھی ساگر بلیدی کی فحاشی کے اڈے سے پکڑے جانے والی وڈیوز بھی وائرل ہوئی تھی جس پر جھوٹا بیان دیا گیا کہ ہم اسٹنگ آپریشن کررہے تھے اداروں کے ساتھ اور وائس میں سنیں جس طرح کہ رہے ہیں ہم پولیس کے پیچھے لگ گئے- اور ان پہ پہلے بھی ایف آئی آرز موجود ہیں جس میں جاوید منگی پہ پلاٹ پر قبضہ تھانہ KIA کی حدود جوکہ پہلے بند بھی ہوچکا ہیں-
مختلف گروپس میں ادارے نوٹ کریں ان دونوں نے روزانہ کے بنیاد پہ پولیس افسران اور بیوروکریٹس کو نشانہ بنایا ہوا ہے جبکہ ساتھ میں کچھ نام نہاد صحافی بھی موجود ہیں جن کی خبروں کو شیئر کیا جارہا ہے
ڈسٹرکٹ کورنگی پریس کلب کے اصلی بانی و صدر رستم قادری نے پہلے سے ہی ان کے خلاف آواز اٹھائی ہے کہ یہ لوگ قبضہ مافیا اور فحاشی کے اڈوں کی سرپرستی کرتے ہیں
اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلع کورنگی میں موجود ادارے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایس ایس پی کورنگی اس وائس سننے کے بعد ان بلیک میلرز اور ان کے سرپرستوں کے خلاف کیا کاروائی کرتے ہیں فحاشی کے سرپرست کی مزید وائس ریکارڈنگ اگلی باری میں منظر عام پہ لائی جائے گی


