73

آٹھ ماہ میں 546اور 12گھنٹے میں 6افراد کو ٹریفک حادثے میں کچلنے کے واقعات لمحہ فکریہ ہیں

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کی مرکزی کمیٹی نے آٹھ ماہ میں 546اور 12گھنٹے میں 6افراد کو ٹریفک حادثے میں کچلنےکےواقعات پرشدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعات لمحہ فکریہ ہیں۔ حکومت سندھ نمبر پلیٹوں پر مہم سازی ٹریفک اہلکاروں کے چالان پر چالان تک محدود ہے۔ در حقیقت قانون کی عمل داری کا ڈرامہ صرف تنگ کرنے کے لئے ہے اپنا اصل کام کریں۔جو نہیں کیا جا رہا۔ حادثات کی وجہ رشوت ستانی، بیڈ گورننس اور کراچی کو تجربہ گاہ بنانا ہے۔ کتنے گھرانے اجڑ چکے ہیں۔ ہیوی ٹریفک کو روکنے میں ناکامی اور حادثات پرذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جاتی تو بہتری لائی جا سکتی تھی۔لیکن اسکے برعکس رشوت دے کر یہ گاڑیاں دندناتی پھر رہی ہیں۔ شہریوں کو کچلنے کے بعد کوئی سخت کاروائی نہیں ہوتی کیونکہ ہر جگہ سسٹم مافیا کا راج ہے۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ 546 افراد کے قاتل ڈرائیورز میں سے کتنوں کو پکڑا گیا اور کیا سزا ملی؟ حکومت سندھ بیڈ گورننس کی حد کرچکی ہے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ بھی شروع ہوگئی ہے۔ ہم وزیر اعلی سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹریفک کی مہم سازی اور عوام کو تنگ کرنے کے بجائے حادثات کو روکا جائے رشوت خور اور سسٹم مافیا کا قلع قمع کیا جائے۔ تمام متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ مرکزی کمیٹی نے جاں بحق ہونے والوں کے لئے دعائے مغفرت اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں