75

ایف آئی اے افسرکا برطانیہ فرارناکام،ویزہ مسترد، تاحیات پابندی،خواجہ آصف کا ٹویٹ درست نکلا

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)ایف آئی اے افسر کا برطانیہ فرار ناکام – ویزہ مسترد، تاحیات پابندی۔ وفاقی وزیر خواجہ آصف کا ٹویٹ درست نکلا۔ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد سید علی اکبر شاہ، جو پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) گروپ کے افسر ہیں، ایک ایسے غیر قانونی منصوبے میں پکڑے گئے جس میں لالچ، دھوکہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال سب شامل تھا۔ اطلاعات ہیں کہ سید علی اکبر شاہ نے پاکستان ہائی کمیشن یوکے میں ایف آئی اے کا امیگریشن کاؤنٹر غیرقانونی طور پر قائم کروایا تاکہ وہاں جاکر تعیناتی حاصل کر سکیں۔ وفاقی وزارت داخلہ کو اطلاع دیے بغیر اور کسی انٹیلیجنس ایجنسی سے این او سی لیے بغیر، انہوں نے نیلا آفیشل پاسپورٹ بنوایا اور اسلام آباد میں برٹش ہائی کمیشن میں ویزے کے لیے درخواست دی۔ لیکن منصوبہ بری طرح ناکام ہوگیا۔ برٹش ہائی کمیشن نے جب پس منظر کی چھان بین کی تو علی اکبر شاہ کا کردار مشکوک پایا گیا اور ان کے غیر قانونی طریقۂ کار کو دیکھتے ہوئے ویزہ فوراً مسترد کر دیا۔ علی اکبر شاہ نے دو بار اپیلیں کیں لیکن برطانیہ نے ان پر مکمل پابندی لگا دی۔ ان کا ایف آئی اے میں ڈیپوٹیشن مدت پوری ہوچکی تھی اور چارج صائم سلطان کو دیا جانا تھا، مگر علی اکبر شاہ نے مبینہ طور پر اپنے پی ایس پی ساتھیوں کو استعمال کرکے خود کو مستقل طور پر ایڈیشنل ڈائریکٹر ایچ آر ایم تعینات رکھا۔ ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز کے افسران انہیں سب سے کرپٹ پولیس افسران میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ڈائریکٹر جنرل کو بتائے بغیر افسران کے غیر قانونی تبادلے کرتے ہیں، اپنی کرپٹ ٹیم کو کلیدی عہدوں پر بٹھا کر کرپشن کا مال اکٹھا کرواتے ہیں، اور انسپکٹر سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر تک کی ترقیوں میں بھاری رشوت بھی وصول کر چکے ہیں۔ ان کا ماضی بھی متنازع ہے۔ خیبرپختونخواہ پولیس میں تعیناتی کے دوران، مبینہ طور پر شراب کے نشے میں ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا، اور ایک مقامی ڈی آئی جی نے انہیں بچایا ورنہ وہ آج جیل میں ہوتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علی اکبر شاہ کی ایف آئی اے میں مدت کب کی پوری ہوچکی ہے مگر وہ اب تک اپنی کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں۔ انٹیلیجنس اداروں کو چاہیے کہ انہیں فوراً بلوچستان ٹرانسفر کیا جائے تاکہ انہیں سبق ملے۔ جب میڈیا نے الزامات پر مؤقف لینے کے لیے انہیں کالز کیں تو وہ فرعونی تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بھی کال کا جواب نہ دے سکے۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر علی اکبر شاہ اپنی صفائی پیش کرنا چاہیں تو ان کا مؤقف بطور “تصویر کا دوسرا رخ” شائع کیا جائے گا۔۔ اس خبر سے یہ وفاقی وزیر خواجہ آصف کا ٹویٹ درست نکلا جس میں انہوں نے بیوروکریٹس کی بیرون ملک جائیدادوں اور نیشنلٹی کے بارے میں ذکر کیا کہ آج کل ہر بیوروکریٹ بیرون ممالک میں اپنا ناجائز اثاثے منتقل کرکے وہیں رہنا چاہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں