42

پاکستان میں قومی ہیروز کو نظر انداز کیے جانے پر سوالات اٹھنے لگے

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان میں حالیہ قومی تقریبات کے دوران بانیانِ پاکستان اور ایٹمی سائنسدانوں کو نظر انداز کیے جانے پر شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ قومی تاریخ کے اصل ہیروز کو پسِ پشت ڈال کر موجودہ سیاسی شخصیات کو غیر معمولی طور پر نمایاں کیا جا رہا ہے۔
رواں سال 28 مئی کو یومِ تکبیر کی تقریبات میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی اور معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کی تصویر یا نام سرکاری سطح پر نہ ہونے کے برابر رہا، جس پر سوشل میڈیا پر عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔

اسی طرح 14 اگست 2025 کے قریب پنجاب بھر میں 10 ارب روپے کی لاگت سے جشنِ آزادی کے لیے لگائے گئے سرکاری پینافلیکس اور بینرز میں قائداعظم محمد علی جناحؒ، علامہ محمد اقبالؒ اور لیاقت علی خانؒ جیسے قومی رہنماؤں کی تصاویر نمایاں طور پر غائب تھیں۔ ان کی جگہ مختلف موجودہ سیاسی خاندانوں کی تصاویر نمایاں طور پر سامنے آئیں، جس پر شہریوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “تاریخ کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، لیکن حال میں اسے مسخ کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں