اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)وائس آف کاروان سالارپاکستان کےصدرسید نجم عباس نقوی نےنیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زیاراتِ مقدسہ اور اربعین جیسے مذہبی فریضوں سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔شہریوں کےتحفظ کی ذمہ داری ریاست کی ہے،حکومت کوچاہیےکہ وہ زائرین کومکمل سیکیورٹی ارسہولیات فراہم کرے۔انہوں نےکہا کہ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی کی جانب سےسیکیورٹی صورتحال کوجوازبنا کر اربعین کے لیے جانے والے زائرین کو روکنا قابلِ مذمت ہے۔ ماضی میں ملک میں دہشتگردی کی سنگین صورتحال کے باوجود یہ قافلے نہیں روکے گئے، تو اب کیوں؟ اگر وفاقی وزیر خود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دہشتگرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں تو وہ زائرین کو تحفظ کیوں فراہم نہیں کر سکتے؟صدر سید نجم عباس نقوی نے بتایا کہ اس وقت ملک بھر سے 50 ہزار سے زائد زائرین کے ویزے مکمل ہو چکے ہیں، بسوں اور ہوٹلوں کی بکنگ ہو چکی ہے، اور اس حکومتی فیصلے سے زائرین اور سالاروں کو اربوں روپے کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔اس موقع پر سرپرست اعلیٰ سید زوار حسین شاہ نے کہا کہ زائرین کے قافلے مکمل طور پر تیار ہیں اور وقت کم ہے، حکومت انہیں اپنے مذہبی فریضے کی ادائیگی سے نہ روکے۔ اگر زمینی راستے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند ہیں تو حکومت بائی ایئر سفر کیلئے خصوصی سہولیات، کرایوں میں رعایت اور ٹیکس میں مکمل چھوٹ فراہم کرے۔
رہنما سید فرحت شاہ نے کہا کہ وزیر داخلہ کے حالیہ بیانات شیعہ قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہیں۔ ہم اپنے مذہبی فریضے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے فیصلے پر فوری نظرِثانی کرے تاکہ ہزاروں زائرین پُرامن طریقے سے اپنا سفر مکمل کر سکیں۔
آخر میں تمام رہنماؤں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی تاکہ زائرین اور ان کے خاندانوں کو ذہنی اور مالی پریشانی سے بچایا جا سکے۔


