کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ایئرپورٹ خودکش حملہ کیس میں مالی معاونت کے الزام میں گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت عدالت نے سرکاری وکیل کی استدعا پر سماعت 28جولائی تک ملتوی کردی-فائل میں گواہوں کے بیانات کی نقول موجود نہیں ، تیاری کیلیے ان دستاویزات کی موجودگی ضروری ہے-
ہم نے پوری دستاویزات کی نقول خود فراہم کی تھیں، ایک بار پھر کردینگے-یہ تاخیری ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں-میرے موکل کا خودکش حملہ اور سے کوئی تعلق نہیں-ملزم بلال خود کش حملہ آور کا کلاس فیلو تھا،اسپر ہی مالی معاونت کا الزام تھا-لیکن ملزم بلال کی ضمانت منظور کرلی گئی اور میرا مؤکل سعید ابھی تک جیل میں ہے-
ملزمان سعید اور بلال نے دو کش حملہ آور کی مالی معاونت کی-حب بلوچستان کے بینک سے خود کش حملہ آور کو گاڑی خریدنے کیلیے رقم فراہم کی تھی-چالان میں ماسٹر مائنڈ کمانڈر بشیر بلوچ عرف بشیر زیب اور عبدالرحمان عرف رحمان گل کو مفرور قرار دیا گیا ہے-
خود کش دھماکے میں2چینی باشندوں سمیت مقامی شہری کی موت ہوئی-خود کش دھماکے میں خاتون سمیت 6 افراد زخمی ہوئے-ماسٹر مائنڈ کمانڈر بشیر بلوچ عرف بشیر زیب اور عبدالرحمان عرف رحمان گل مفرور ہیں-بشیر زیب اور رحمان گل نے ہی اپنی تنظیم کے رکن شاہ فہد کی خود کش حملے کے لیے ذہن سازی کی-
گرفتار ملزم جاوید نے حملے سے قبل ایئر پورٹ کی ریکی کی- گرفتار ملزمہ گل نسا نے بارود سےبھری کار بلوچستان سے کراچی لانے میں مدد کی-دھماکے کے وقت گرفتار ملزم جاوید اور اس کا ساتھی سراج عرف دانش وقوعے پر موجود تھے-خود کش دھماکے کے بعد جاوید اور سراج عرف دانش ایئر پورٹ سے فرار ہوگئے تھے-


