کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) ایس آئی یو پولیس نے خفیہ اطلاع پر کراچی کے علاقے ملیر قائد آباد میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے دشمن ملک بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” سے تعلق رکھنے والے چار اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ اس حوالے سے ایس ایس پی شعیب میمن نے پریس کانفرنس میں سنسنی خیز انکشافات کیے۔
ایس ایس پی کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمان نہ صرف بھارتی خفیہ ایجنسی را سے رابطے میں تھے بلکہ ان کا براہِ راست رابطہ بھارت میں تعینات بی ایس ایف کے کرنل رنجیت سے تھا۔ ان کے قبضے سے چار ہینڈ گرینیڈ، ایک پستول، اور ایک گاڑی برآمد کی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر دہشت گردی کے منصوبوں میں استعمال کی جانی تھی۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار ملزمان پاک فوج اور سی پیک سے جڑی حساس تنصیبات کی جیو ٹیگنگ کر رہے تھے اور ان کی معلومات دشمن ملک تک پہنچا رہے تھے۔ ان میں سے کچھ تنصیبات کراچی کے علاقے ملیر جبکہ کچھ سجاول میں واقع تھیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان کا تعلق ضلع سجاول کی جت جاتی تحصیل سے ہے اور پیشے کے لحاظ سے یہ مچھیروں کا کام کرتے ہیں، جسے یہ اپنے جاسوسی مشن کا کور بنائے ہوئے تھے۔ ان کے موبائل فونز سے حساس مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں۔
ایس ایس پی شعیب میمن نے بتایا کہ مرکزی ملزم محمد خان بھریو 2009 سے دشمن ملک کو معلومات فراہم کر رہا ہے۔ وہ اب تک 20 مرتبہ بھارت جا چکا ہے، جب کہ اس کے دیگر ساتھی بھی چھ سے زائد بار بھارت کا سفر کر چکے ہیں۔ ان کے قبضے سے پاک آرمی کے ٹریننگ مینولز بھی برآمد کیے گئے ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ملزمان کو باقاعدہ تربیت فراہم کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔


