جماعت اسلامی کے سابق ایم پی اے کیخلاف لیاری جنرل ہسپتال عملہ پرحملے کا کیس

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)جماعت اسلامی کے سابق ایم پی اے عبدالرشید کے خلاف لیاری جنرل اسپتال کے عملے پر حملے کا مقدمہ-سابق ایم پی اے کی مقدمے میں درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی-عدالت نے عبدالرشید سمیت دو ملزمان کی عبوری ضمانت منظور کرلی-عدالت کا ملزمان کو پچاس ہزار فی کس کے مچلکے جمع کروانے کا حکم-عدالت نے پراسیکیوشن اور تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کردیئے-

عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس فائل طلب کرلی-یہ سنجیدہ معاملہ ہے، آپ نے کسی کے دفتر میں گھس کر بدمعاشی کی اور لوگوں کی مارا پیٹا ہے-سابق ایم پی اے نے نہیں اسپتال انتظامیہ اور وہاں موجود لوگوں نے انہیں مارا ہے-کیا آپ نے کسی کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا-ہمارا مقدمہ درج ہی نہیں کیا گیا،حکمران جماعت کے لوگ اسپتال میں موجود ہوتے ہیں-حکمران جماعت کے لوگوں نے براہ راست عبدالرشید کےخلاف مقدمہ درج کروایا-سابق ایم پی اے سماجی کارکن ہے-یہ کونسا کام ہے کہ کہیں جاکر غنڈا گردی کریں، ایم پی اے بننا ہوگا تو دوبارہ بن جائیں گے-

آپ نے اسپتال پر حملہ کیا، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی تو کیا جیل جائیں گے-نرسنگ اسپتال کے اندر جاکر بدمعاشی کرنا اور احتجاج کرنا دو الگ باتیں ہیں-فائل میں لگی تصویریں کس کی ہیں-تصویریں درخواست گزار کی ہیں، سابق ایم پی اے پر تشدد کرکے دانت توڑ دیئے گئے-معاملے کو زیادہ بڑھائیں نہیں، رفع دفع کریں-ہم سندھ حکومت سے معاملے پر بات چیت کے لئے تیار ہیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں