33

تھانہ A سیکشن اور B سیکشن جرائم کا گڑھ بن گئے، ایس ایس پی حیدرآباد نوٹس لیں

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)قانون کی عملداری دم توڑ چکی ہے۔ تھانہ A سیکشن اور B سیکشن کی حدود میں منشیات، جوا، سٹہ اور مین پوری کی کھلے عام فروخت جاری ہے، جو پولیس کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان تھانوں نے مجرموں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے، اور پولیس اہلکار خود ان جرائم کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

تھانہ اے سیکشن کی حدود میں کمپرہنسی اسکول کے سامنے دن دیہاڑے جوئے کا اڈا بے دھڑک چل رہا ہے، جب کہ نمبر 12 کی آٹے کی چکی کے قریب دوسرا اڈا بھی سرگرم ہے۔ اسی علاقے میں سڑک کنارے سفینہ انڈین پان پرا کی غیرقانونی فروخت دیدہ دلیری سے جاری ہے۔ پولیس سب کچھ جانتے ہوئے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

بی سیکشن تھانے کے حالات تو اس سے بھی زیادہ بدتر ہیں۔ لطیف آباد یونٹ نمبر 6، 7 اور 10 میں مین پوری اور نشہ آور اشیاء کی فروخت میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان تمام جرائم کے پیچھے بااثر عناصر شامل ہیں جن میں حنان بیٹر، جو فرنٹ مین ہے، اور ، عدنان شاہ مین پوری، عارف ملا ہول سیلر چورا، سجو پالاری ہول سیلر، اور اکرم پٹھان ہول سیلر شامل ہیں۔ پولیس ان افراد کو تحفظ دے کر جرائم کو فروغ دے رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ پولیس عوام کی حفاظت کی تنخواہ لیتی ہے یا ان جرائم پیشہ عناصر کی؟ عوامی حلقے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایس ایس پی حیدرآباد فوری نوٹس لے کر اے سیکشن اور بی سیکشن کے ایس ایچ اوز و اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں۔اگر یہی صورتحال جاری رہی تو عوام کا پولیس پر سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور حیدرآباد جرائم کا مرکز بن کر رہ جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں