ملیرجیل توڑنے کا معاملہ،عدالت نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ملیر جیل توڑنے کا مقدمہ،عدالت نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا-شاہ لطیف تھانے کے تفتیشی افسر نے 115 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا، تحریری حکم نامہ کے مطابق عدالتی استفسار پر کسی ملزم نے پولیس کی جانب سے تشدد کی شکایت نہیں کی-تفتیشی افسر نے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی-ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں-

ملزمان پہلے ہی دیگر مقدمات میں زیر حراست قیدی ہیں-ملزمان کا مخصوص یا انفرادی کردار بھی نہیں بتایا گیا-نا ہی ملزمان سے کوئی تازہ برآمدگی بتائی گئی ہے-تفتیشی افسر نے انتہائی بے ترتیبی سے کیس کو عدالت میں پیش کیا-تفتیشی افسر نے نا تو مقدمے میں نامزد ملزمان کا جیل حکام کا تصدیق شدہ ریکارڈ پیش کیا-

حیران کن طور پر تفتیشی افسر نے 118 ملزمان کا ریکارڈ پیش کیا-بعد ازاں اس ریکارڈ میں ترمیم کرکے تعداد 115 کی گئی-فرد گرفتاری میں بھی ملزمان کی تعداد کو 118 سے ترمیم کرکے 115 کیا گیا-تفتیشی افسر عدالت میں کیس ڈائری، گواہان، برآمد شدہ مال مقدمہ اور زخمی پولیس اہلکاروں کے میڈیکل ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے-تفتیشی افسر کا جیل کے باہر سے اتنی بڑی تعداد میں فرار قیدیوں کی گرفتاری کا بیان قابل یقین نہیں-عدالتی استفسار پر قیدیوں نے بتایا کہ انہوں نے جیل نہیں توڑی-

قیدیوں نے بتایا کہ زلزلے کے باعث جیل کی چھت گرنے سے دیوار کو جزوی نقصان پہنچا-قیدیوں کے مطابق انہوں نے جیل پولیس سے مدد طلب کی-قیدیوں نے بتایا کہ زلزلے کے دوران جیل پولیس اہلکار بھی محفوظ مقام کی جانب جانے کی کوشش کررہے تھے-قیدیوں نے بتایا کہ وہ جیل سےباہر آگئے تھے تاہم حالات نارمل ہونے پر جیل میں واپس چلے گئے تھے-جیل پولیس نے قیدیوں کو گرفتار ظاہرکیا-پورے معاملے میں جیل انتظامیہ کے کمزور انتظامات بھی سامنے آئے ہیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں