39

کورنگی کی پولیس بے بس،گٹکا ڈیلرآصف لمبے اورعرفان بنگالی کا گٹھ جوڑ

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)آصف لمبے اور عرفان بنگالی کا پولیس اور سیاسی شخصیات سے عام شہریوں کی رگوں میں مضر صحت گٹکے ماوے کی فروخت سے زہر گھولنے کا لائسنس حاصل کرنے کا دعویٰ کردیا-

پولیس اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ عام شہریوں پر ہونے والی زیادتیوں پر انصاف فراہم کرنے میں آتا ہے جبکہ یہ معاملہ اس کے برعکس ہے شہریوں کو کینسر نما بیماری میں دھکیلنے والے آصف لمبا اور اس کا بھائ اور بیٹے اور عرفان بنگالی کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے کھلے عام زہریلے گٹکے ماوے کی تیاری سپلائی اور فروخت کے سبب شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہے ہیں گٹکا ڈیلر آصف لمبا اور اس کا بھائ اور بیٹا دوسری طرف عرفان بنگالی زہریلا گھناؤنا کاروبار پولیس اور سیاسی سرپرستی میں کھلے عام جاری ہے پولیس نے لاکھوں روپے رشوت کے عوض خاموشی اختیار کر رکھی ہے جو کہ شہریوں کو گہری تشویش میں مبتلا کر رہی ہے

مذکورہ ڈیلر کا زہریلے گٹکے ماوے کا کاروبار کھلے عام چلنا محکمہ پولیس سمیت اسپیشل برانچ ٹاسک فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے کھلا چیلنج یا ان محکموں کو خاموشی سے مستفید ہونے کی دلیل دیتا ہے گٹکا ماوا کھانے کے سبب لاتعداد شہری منہ کے کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہو کر درد ناک اذیت میں زندگی گزار رہے ہیں ہسپتال زہر نما گٹکے ماوے کھانے کے سبب کینسر جیسی جان لیوا مرض میں مبتلا مریضوں سے بھر چکے ہیں پولیس نے ان مریضوں کی تکلیفوں کو نظر انداز کر کے لاکھوں روپے کے عوض موکلیں فراہم کر رہی ہے

صحافی کا کام شہریوں کو باخبر رکھنا ہے تاکہ وہ اپنی نجی و سماجی زندگی میں بہتر فیصلے کر سکیں و ہر شہری کا قانونی حق قرار دیا ہے آصف لمبا اور اس کا بھائ اور بیٹا دوسری طرف عرفان بنگالی با اثر پولیس اور سیاسی شخصیات کی پشت پناہی کے سبب کھلے عام گٹکا ماوا فروخت کروا کر شہریوں کو کینسر نما بیماری میں دہکیل رہا ہے اعلی پولیس افسران کی پر اسرارِ خاموشی شہریوں کو بے چین کر رہی ہے گٹکے ماوے کے کاروبار سے منسلک جرائم پیشہ کی پشت پناہی کرنے والے پولیس کے شعبہ آپریشن و تفتیش کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں محکمہ پولیس کو کرپشن کا گڑ سمجھا جاتا ہے اور اس کا جال دور تک پھیلا ہوا ہے یہ پولیس کو بدعنوانی کی راہ پر چلاتا ہے اور اس نے سیاست دانوں کو بھی اپنی کرپشن کی لپیٹ میں لے رکھا ہے یہی وجہ ہے گٹکے ماوے کے خلاف کوئی سننے کو تیار نہیں ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں