کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے پولیس کانسٹیبل محمد فاروق کو شہید کرنے والے مرکزی ملزم کو ساتھی سمیت مقابلے کے بعد گرفتار کرلیا۔ ملزمان میر خان گوٹھ میں واقع پلاٹ میں موجود تھے، پولیس نے خفیہ اطلاع پر ملزمان کی گرفتاری کے لئے کاروائی کی تو 05 ملزمان 02 موٹرسائیکلز پر سوار ہوکر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوئے۔
پولیس کی حکمت عملی سے جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ملزمان کی 01 موٹرسائیکل کے ٹائر پر گولی لگی اور گرنے پر دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔گرفتار ملزمان کی شناخت محمد سفیان ولد محمد نعمان اور ساگر علی ولد محمد شفیق کے ناموں سے ہوئی، جبکہ فرار ملزمان کی شناخت بھی کرلی گئی ہے۔
گرفتار ملزمان سے اسلحہ/پسٹل بمعہ ایمونیشن اور چلیدہ خولز برآمد ہوئے، جبکہ ملزمان کے زیراستعمال موٹرسائیکل کو بھی قبضہ پولیس میں لے لیا گیا۔گرفتار ملزم محمد سفیان نے انکشاف کیا کہ مورخہ 19 مئی 2025 کو دو وارداتیں کرنے کے بعد فرار ہوتے ہوئے کنیز فاطمہ میں پولیس اہلکاروں سے سامنا ہوا تھا۔
گرفتار ملزم محمد سفیان نے گرفتاری سے بچنے کے لئے فائرنگ کرکے پولیس کانسٹیبل محمد فاروق کو شہید اور پولیس کانسٹیبل صفدر کو زخمی کیا تھا، جبکہ اس دوران فرار ملزم نور بلوچ موٹرسائیکل چلارہا تھا۔گرفتار ملزم محمد سفیان نے ہی مورخہ 08 مئی 2025 کو میر خان گوٹھ میں موٹرسائیکل سوار ماموں اور بھانجے کو واردات کی کوشش کے دوران فائرنگ کرکے ماموں غلام اکبر کو قتل اور بھانجے محمد کلیم کو زخمی کیا تھا۔ انکشاف
گرفتار ملزم محمد سفیان نے دوران انٹروگیشن بالہ دونوں وارداتوں کا اعتراف کرتے ہوئے دونوں جائے وقوعہ کی درست نشاندھی بھی پولیس کو کروائی ہے۔ملزمان نے انٹروگیشن کے دوران مزید بتایا کہ ہمارا گروپ 05 ملزمان پر مشتمل ہے اور ہم سے کوئی بھی ملزم واردات کے دوران موبائل فون یا قابل شناخت کوئی بھی چیز اپنے پاس نہیں رکھتا ہے۔
گرفتار ملزمان کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمات کا اندراج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے، جبکہ فرار ساتھی ملزمان کی گرفتاری کے لئے کاروائیاں جاری ہیں۔


