4

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں، سکیورٹی فورسز کے مطابق 11 دہشت گرد ہلاک

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی مختلف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران سکیورٹی ذرائع کے مطابق 11 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج سے وابستہ 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ہلاک افراد کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا میں جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کو جانی و مالی نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سکیورٹی فورسز کے مطابق بلوچستان کے علاقے گورندر اور ماشکیل میں کارروائیوں کے دوران مزید 6 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ماشکیل میں مسلح افراد نے سکیورٹی چیک پوسٹ پر فائرنگ کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے فرار ہونے والے مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں کامیابی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے آپریشنز کے دوران قانون کے تقاضوں، شہریوں کی سلامتی اور انسانی حقوق کا مکمل خیال رکھنا ضروری ہے۔

سکیورٹی کارروائیوں میں ہلاکتوں سے متعلق معلومات چونکہ ابتدائی طور پر سکیورٹی ذرائع کی جانب سے سامنے آتی ہیں، اس لیے ہلاک افراد کی شناخت، واقعے کے مکمل حالات اور برآمد ہونے والے سامان سے متعلق تفصیلات کی شفاف تصدیق بھی اہم ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر سکیورٹی ذرائع اور وفاقی وزیر داخلہ کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ دہشت گردوں کی تعداد، شناخت، ہلاکتوں اور برآمدگی سے متعلق تفصیلات کو متعلقہ حکام کے مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آزادانہ طور پر تمام تفصیلات کی تصدیق دستیاب نہیں، جبکہ کارروائیوں سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے پر صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں