**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 4 اکتوبر کو ہونے والے مجوزہ لانگ مارچ کے ذریعے صوبے میں بدامنی اور تشدد پیدا کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ مبینہ منصوبے سے متعلق معلومات فوج اور متعلقہ انٹیلی جنس اداروں کو پہلے ہی مل چکی تھیں۔
وفاقی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں جولائی 2024 کے بنوں واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس واقعے کے پس منظر کو دیکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق بنوں کینٹ پر خودکش حملے کے بعد احتجاج ہوا تھا اور بعدازاں صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ 4 اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے دوران بھی بعض عناصر فوجی یا پولیس تنصیبات کے قریب افراتفری پیدا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان دعوؤں کو خیبر پختونخوا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے بعض عناصر سے منسوب کیا، تاہم ان الزامات کے حوالے سے پی ٹی آئی یا خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف بھی اہم ہے۔
وفاقی وزیر نے 2 اکتوبر کو ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں پر حملوں، پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ کور کمانڈرز کانفرنس کے حوالے سے جاری رپورٹس میں بھی پُرتشدد انتشار کے خلاف کارروائی اور قانون کی بالادستی پر زور دینے کی تصدیق ہوئی ہے۔
خواجہ آصف نے سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ پرامن سیاسی سرگرمی اور احتجاج کا حق اپنی جگہ موجود ہے، تاہم ان کے بقول اگر کوئی سرگرمی مسلح کارروائی یا ریاستی اداروں پر حملے کی شکل اختیار کرے تو ریاست اس کے خلاف کارروائی کرے گی۔
دوسری جانب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان 2 اکتوبر کو لانگ مارچ سے قبل مذاکرات بھی ہوئے، جن میں خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال اور احتجاج سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کو پہلے 27 ستمبر سے مؤخر کرکے 4 اکتوبر کیا تھا۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
پرامن سیاسی احتجاج اور اجتماع شہریوں کے آئینی حقوق کا حصہ ہیں، تاہم احتجاج کے دوران عام شہریوں کی جان و مال، نقل و حرکت، کاروبار اور سرکاری و نجی املاک کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
اسی طرح کسی سیاسی جماعت، صوبائی حکومت یا دیگر گروہوں پر تشدد یا دہشت گردی کی منصوبہ بندی جیسے سنگین الزامات کی غیر جانب دارانہ اور قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر تحقیقات ضروری ہیں۔ سیاسی اختلافات کو پرامن اور قانونی ذرائع سے حل کرنا عوامی تحفظ اور جمہوری عمل کے لیے اہم ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی یا دیگر عناصر سے متعلق الزامات **خواجہ آصف کے بیان کے طور پر** نقل کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ متعلقہ فریقین کا مؤقف اور قابلِ تصدیق شواہد سامنے آنے کی صورت میں خبر کو مزید اپ ڈیٹ کیا جاسکتا ہے۔


