8

بچوں کے نان نفقہ سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

**لاہور — (ایچ آراین ڈبلیو)**لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کے نان نفقہ سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ والدین باہمی رضامندی سے نابالغ بچے کے نان نفقہ کے قانونی حق کو کم یا ختم نہیں کرسکتے۔

جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں والدین کی رضامندی سے نابالغ بچی اور اس کے بھائی کا ماہانہ نان نفقہ 30،30 ہزار روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ والدین آپس میں سمجھوتا کرسکتے ہیں، تاہم بچے کے قانونی حق سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ فیصلے کے مطابق بچے کا نان نفقہ والدین کا نہیں بلکہ خود بچے کا قانونی حق ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ والدین کسی باہمی سمجھوتے کے ذریعے نابالغ بچے کے نان نفقہ میں کمی نہیں کرسکتے، جبکہ والدہ بھی بطور سرپرست بچے کا نان نفقہ معاف یا کم کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ صرف والدین کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کو قبول کرنے کی پابند نہیں۔ عدالت کو نان نفقہ مقرر کرتے وقت بچے کی ضروریات، فلاح و بہبود، والد کی مالی استطاعت اور سماجی حیثیت کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

عدالت نے متعلقہ معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ بچوں کی ضروریات اور والد کی مالی استطاعت کا جائزہ لینے کے بعد نان نفقہ نئے سرے سے مقرر کیا جائے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

بچوں کی بنیادی ضروریات، تعلیم، خوراک، رہائش اور صحت کے لیے مناسب نان نفقہ ان کے فلاحی اور قانونی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ عدالتی فیصلے میں بچے کے مفاد اور ضروریات کو والدین کے باہمی مالی سمجھوتے سے الگ ایک قانونی حق کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

ایسے معاملات میں عدالتوں کے لیے ضروری ہے کہ نان نفقہ طے کرتے وقت بچے کی حقیقی ضروریات اور والدین کی مالی استطاعت کا متوازن جائزہ لیا جائے تاکہ بچے کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر لاہور ہائیکورٹ کے تحریری فیصلے اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے میں بیان کردہ قانونی نکات کو عدالت کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کسی مخصوص مقدمے میں حتمی قانونی رائے کے لیے مکمل عدالتی فیصلے اور متعلقہ قانونی ماہر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں