5

جماعت اسلامی کا وزیراعظم کی درخواست پر لانگ مارچ عارضی طور پر مؤخر کرنے کا اعلان

**ملتان — (ایچ آراین ڈبلیو)**امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر جماعت اسلامی کا لانگ مارچ عارضی طور پر ملتان میں روکنے کا اعلان کردیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اپنی احتجاجی تحریک سے دستبردار نہیں ہوئی۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم نے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان واپس پہنچنے کے بعد جماعت اسلامی کے ساتھ ملاقات کرکے عوام کو ریلیف دینے کے لیے فیصلے کیے جائیں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ احتجاج اور لانگ مارچ سے دستبردار نہیں ہوا جائے گا، تاہم وزیراعظم کو بات چیت کا موقع دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکن میدان میں موجود رہیں گے اور لانگ مارچ کا پڑاؤ ملتان میں برقرار رہے گا۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی آمد اور ملاقات تک جماعت اسلامی حکومتی مؤقف سنے گی، تاہم حکومت سے تحریری یقین دہانی بھی طلب کی جائے گی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت کا ایجنڈا فساد نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانا ہے۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس معاملے پر فیصلہ کرنا ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق عوام مہنگائی سے شدید متاثر ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک آئی ایم ایف پروگرام میں ہے اور اسی وجہ سے پٹرولیم لیوی میں فوری کمی ممکن نہیں۔

قبل ازیں وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور حافظ نعیم الرحمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں وزیراعظم نے جماعت اسلامی سے اسلام آباد میں دھرنا مؤخر کرنے کی درخواست کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کو مشکل حالات میں پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف فراہم کر رہی ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق عوام کو ریلیف دینے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

وزیراعظم کی تجویز پر حافظ نعیم الرحمان نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی دھرنا مؤخر کرنے پر غور کرے گی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان وزیراعظم کے دورے کے بعد ملاقات اور مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بھی ہوا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عام شہریوں، مزدوروں اور کم آمدنی والے خاندانوں کی زندگی پر براہِ راست پڑتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کسی بھی ریلیف پالیسی میں شفافیت، مؤثر عمل درآمد اور مستحق طبقات تک حقیقی فائدہ پہنچانا اہم ہے۔

دوسری جانب احتجاج اور لانگ مارچ آئینی و سیاسی سرگرمیوں کا حصہ ہیں، تاہم احتجاج کے دوران شہریوں کی نقل و حرکت، کاروباری سرگرمیوں، مریضوں اور دیگر بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ حکومت اور احتجاج کرنے والی جماعت کے درمیان مذاکرات کے ذریعے عوامی مشکلات کے حل کی کوشش شہریوں کے مفاد میں اہمیت رکھتی ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

اس خبر میں حافظ نعیم الرحمان، جماعت اسلامی اور وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے بیان کیے گئے مؤقف کو ان کے متعلقہ بیانات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ پٹرولیم لیوی، حکومتی ریلیف اور آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق دعووں کو متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور دستاویزات کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ لانگ مارچ کے آئندہ لائحہ عمل میں مذاکرات اور حکومتی فیصلوں کے مطابق تبدیلی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں