**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (PPDA) نے حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ریلیف اسکیم کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسکیم کے تحت صارفین کو پیٹرول فراہم کرنے سے انکار کردیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے PPDA کے وائس چیئرمین انوار کمال نے کہا کہ ریلیف اسکیم کی تیاری کے دوران پیٹرولیم ڈیلرز سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ موجودہ طریقہ کار پر عمل درآمد ڈیلرز کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
انوار کمال کے مطابق ریلیف اسکیم کا مالی بوجھ پیٹرول پمپس کے ڈیلرز پر ڈالنا قابلِ عمل نہیں۔ انہوں نے حکومت سے ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ طریقہ کار کے تحت ڈیلرز ریلیف اسکیم کے تحت پیٹرول فراہم نہیں کریں گے۔
وائس چیئرمین PPDA نے سوال اٹھایا کہ اسکیم کے تحت صارفین کو فراہم کیے جانے والے سستے پیٹرول کی رقم حکومت ڈیلرز کو کس طریقہ کار کے تحت واپس ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز گزشتہ تین روز سے حکومت سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ان کے مطابق تاحال حکومت کی جانب سے کوئی واضح جواب موصول نہیں ہوا۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ریلیف اسکیم پر مؤثر عمل درآمد کے لیے حکومت اور ڈیلرز کے درمیان واضح طریقہ کار اور مالی معاملات پر اتفاق ضروری ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
پیٹرولیم کی قیمتوں میں ریلیف یا سبسڈی سے متعلق کسی بھی اسکیم کا براہِ راست اثر عام شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، ڈیلرز اور متعلقہ فریقین کے درمیان شفاف مشاورت کے ذریعے ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس میں صارفین کو ریلیف بھی ملے اور ڈیلرز کے مالی حقوق و واجبات بھی واضح اور بروقت ادا ہوں۔ کسی بھی اختلاف کی صورت میں عوام کو ایندھن کی دستیابی متاثر ہونے سے بچانے کے لیے بروقت حل نکالنا بھی عوامی مفاد میں ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور عوامی مفاد سے متعلق اہم خبریں اجاگر کرنے کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین انوار کمال کی پریس کانفرنس میں بیان کیے گئے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ جواب یا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں خبر کو مزید اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔


