11

مکہ دفاعی معاہدہ: کسی رکن پر حملے کی صورت میں مشترکہ ردعمل کا فیصلہ ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل کسی ایک ملک پر حملے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ باہمی مشاورت سے ردعمل کا فیصلہ کریں گے۔

عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ تینوں ممالک کسی بھی ممکنہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے اور اس کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق دفاعی وعدوں پر عمل درآمد کا عملی طریقہ کار اور فوجی کارروائیوں سے متعلق حساس تفصیلات عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی جاتیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کا بنیادی مقصد ملکی دفاع ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اسلحے کی دوڑ کا حصہ بننے کی کوشش نہیں کر رہا، تاہم کسی جارحیت کی صورت میں ملک اپنے دفاع اور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بھارت کی دفاعی استعداد میں اضافے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی فوجی طاقت میں اضافے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کی دفاعی پالیسی کا بنیادی مقصد ملکی سلامتی اور دفاع ہے۔

سیاسی اور فوجی اہداف کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ملک کے سیاسی مقاصد کا تعین سیاسی قیادت کرتی ہے۔ ان کے مطابق فوج اور ریاست کے مقاصد الگ الگ نہیں ہیں جبکہ قومی اہداف اور ترجیحات کا تعین سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اقوام متحدہ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے طالبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہاں ایسے عناصر کی تربیت کی جا رہی ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ افغان حکام کی جانب سے ان الزامات پر مؤقف اس خبر میں شامل نہیں ہے۔

مکہ معاہدے کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر دفاعی تعاون کا انتظام ہے، جس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی صلاحیت اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اس معاہدے کے باوجود دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے آزادانہ سفارتی و بین الاقوامی تعلقات برقرار رکھیں گے۔ ان کے مطابق مشترکہ دفاعی تعاون دیگر بین الاقوامی تعلقات یا اتحادوں کا متبادل نہیں بلکہ معاون انتظام ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

ریاستوں کے درمیان دفاعی معاہدوں کا بنیادی مقصد شہریوں اور ریاستی سلامتی کا تحفظ ہونا چاہیے۔ کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی کی صورت میں شہری آبادی کے تحفظ، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری، سفارتی ذرائع کے استعمال اور کشیدگی کو محدود رکھنے کو ترجیح دینا عوامی مفاد میں ہے۔ دفاعی معاہدوں سے متعلق حساس معلومات کے ساتھ ساتھ عوام کو ان کے قانونی اور آئینی دائرہ کار سے متعلق قابلِ تصدیق معلومات کی فراہمی بھی اہم ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ رپورٹ اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور طالبان حکومت سے متعلق عائد کردہ الزامات متعلقہ فریق کے مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں شامل نہیں۔ مکہ دفاعی معاہدے کے عملی طریقہ کار اور ممکنہ ردعمل سے متعلق حتمی تفصیلات متعلقہ ممالک کے سرکاری بیانات اور معاہدے کی دستاویزات سے ہی واضح ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں