17

جنوبی لبنان میں اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی، علی الطاہر کے قریب آنے والوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

**بیروت — (ایچ آراین ڈبلیو)**اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان میں **علی الطاہر کی پہاڑی کے قریب آنے والے افراد کو نشانہ بنانے کی دھمکی** دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج اس اہم اسٹریٹجک مقام پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حالیہ کارروائی کے دوران اس علاقے میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا اور اس کے زیرِ زمین انفرااسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ یا کسی دوسرے مسلح گروہ کو علاقے میں دوبارہ موجودگی قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

علی الطاہر کی پہاڑی جنوبی لبنان کا ایک اہم اسٹریٹجک مقام سمجھی جاتی ہے، جہاں سے نبطیہ سمیت وسیع علاقے پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ حالیہ کارروائی کے بعد اسرائیلی فوج نے علاقے میں ’’آپریشنل کنٹرول‘‘ قائم کر لیا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق پہاڑی کے نیچے حزب اللہ کا **دو کلومیٹر سے زائد طویل زیرِ زمین نیٹ ورک** موجود تھا، جس میں مبینہ طور پر کمانڈ مراکز، ہتھیاروں کے ذخائر اور دیگر فوجی تنصیبات شامل تھیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس انفرااسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

اسرائیل علی الطاہر کی پہاڑی کو اپنے اعلان کردہ ’’سکیورٹی زون‘‘ کا حصہ قرار دیتا ہے، تاہم لبنان کی حکومت جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی پر اعتراض کرتی رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جون میں سامنے آنے والے جنگ بندی فریم ورک میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور علاقے میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی بات کی گئی تھی، تاہم اس عمل میں پیش رفت رکنے کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور علی الطاہر کا علاقہ دونوں فریقوں کے درمیان تنازع کے اہم مقامات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے تناظر میں عام شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ کسی بھی فوجی کارروائی میں شہری آبادی کو نقصان سے بچانے، متناسب طاقت کے استعمال اور غیر جنگجو افراد کے تحفظ کے اصولوں پر عمل ضروری ہے۔

علاقے میں مستقل امن کے لیے جنگ بندی کی مؤثر پاسداری، فریقین کے درمیان سفارتی مذاکرات اور شہری آبادی کے تحفظ کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ کسی بھی فریق کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے یا غیر ضروری طاقت کے استعمال کے دعووں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، امن اور عوامی مفاد سے متعلق خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر دستیاب رپورٹس اور متعلقہ فریق کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے کیے گئے فوجی دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ضروری ہے۔ خبر میں کسی بھی فریق کے دعوے کو حتمی یا غیر متنازع حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں