**نیویارک — (ایچ آراین ڈبلیو)**قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے ایران اور خلیجی ممالک کو شامل کرکے مشترکہ علاقائی سکیورٹی فریم ورک قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا کہ حالیہ جنگ کو خطے کے لیے ایک ’’ویک اپ کال‘‘ سمجھنا چاہیے۔
قطری وزیراعظم کے مطابق حالیہ بحران کے دوران خطے میں سکیورٹی اور استحکام سے متعلق کئی مفروضے آزمائش سے گزرے، جبکہ بحران کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران قطر کا ہمسایہ ملک ہے اور خطے میں پائیدار سلامتی کے لیے ایسا سکیورٹی فریم ورک ضروری ہے جس میں خلیجی ممالک اور ایران شامل ہوں اور جس کے تحت تمام ممالک ایک دوسرے کے خلاف خطرہ پیدا نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ قطر اور اس کے علاقائی شراکت دار ایسے انتظام کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کو مشترکہ طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان بہتر تعلقات اور باہمی سکیورٹی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
قطری وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ قطر کشیدگی میں کمی اور سفارتی بات چیت کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا اور علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے گا۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
مشرق وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی اور مسلح تنازعات کے اثرات شہریوں، توانائی اور تجارتی راستوں سمیت پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ علاقائی سکیورٹی کے کسی بھی فریم ورک میں شہریوں کے تحفظ، ریاستوں کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے پرامن حل کو بنیادی اہمیت دینا ضروری ہے۔
سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں خطے میں انسانی جانوں، بنیادی ڈھانچے اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف اور مطالبات کو ان کے بیان کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی تشکیل سے متعلق کسی حتمی معاہدے یا تمام متعلقہ ممالک کی منظوری کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے، اس لیے تازہ پیش رفت کے لیے متعلقہ سرکاری ذرائع سے رجوع ضروری ہے۔


