کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)جماعت اسلامی ضلع ائیر پورٹ کے تحت ملیر و شاہ فیصل کالونی میں بجلی کی 18,18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ، اووربلنگ، بجلی کا بل ادا کرنے والوں کی بھی بجلی منقطع کرنے اور ریکوری ٹیموں کے ذریعے مکینوں کو ہراساں کرنے کے خلاف آئی بی سی ملیرو شاہ فیصل کے باہر احتجاجی دھرنا چھٹے روز بھی جاری رہا، دھرنے میں علاقے کے مردو خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور کے الیکٹرک کے ظالمانہ رویے اور بدترین لوڈشیڈنگ و اووربلنگ کی شدید مذمت کی، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کے الیکٹرک کی انتظامیہ اور حکومت کو متنبہ کیا کہ ملیر و شاہ فیصل کالونی کے عوام کے مسائل حل اور مطالبات منظور نہ کیے گئے تو نیشنل ہائے وے و دیگر شاہراؤں پر احتجاج اور اسے بلاک کرنے کا آپشن استعمال کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی شہر بھر میں کے الیکٹرک کی بدترین لوڈ شیڈنگ، اووربلنگ اور لوٹ مار کے خلاف عوام کی آواز بنی ہوئی ہے، کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی، جماعت اسلامی عوام کی حمایت اور طاقت سے شہر میں بجلی و پانی سمیت دیگر مسائل کے حل اور اہل کراچی کے حق کے لیے احتجاج کا دائرہ وسیع کرے گی، ملیر آئی بی سی پر احتجاجی دھرنے کے چھٹے روز اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ، امیر ضلع ائیر پورٹ محمد اشرف، پبلک ایڈ کمیٹی کے سیکریٹری نجیب ایوبی، ناظم علاقہ ملیر کاشف شفیع و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ منعم ظفر خان جو 6روز سے جاری دھرنے کے تیسرے روز بھی دھرنے میں شریک ہوئے تھے‘ نے دھرنے کے چھٹے روز شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ موجودہ اور ماضی کی تمام حکومتوں اور حکمران پارٹیوں کی سرپرستی اور حمایت کے باعث 20سال میں کے الیکٹرک ایک مافیا بن چکی ہے، نیپرا بھی کے الیکٹرک کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتی ہے اور کے الیکٹرک کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، یہ سندھ حکومت کی نا اہلی ہے کہ سی ای او کے الیکٹرک کوبلانے کے باوجود سندھ اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہیں ہورہے، کے الیکٹرک سخت گرمی اور حبس کے موسم میں بھی شہر میں بدترین لوڈشیڈنگ کر رہی ہے، کے الیکٹرک کے صارفین کی تعداد 18لاکھ سے بڑھ کر 38لاکھ ہو گئی لیکن کے الیکٹرک نے اپنی پیداوارمیں اضافے کے بجائے کمی کی اور کراچی کے شہریوں کو سب سے زیادہ مہنگی بجلی دی جارہی ہے، منعم ظفر خان نے کہا کہ وزیر اعظم بھی سن لیں کہ کراچی کے عوام نرم چارہ نہیں ہیں، مسلم لیگ ن کے ایجنڈے میں کراچی شامل ہی نہیں ہے، مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو کم گنا اور کراچی کو اس کے جائز اور قانونی حق اور وسائل سے محروم کیا۔اکیسویں صدی میں کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولیات اور ضروریاتِ زندگی میسر نہیں، شہریوں بالخصوص خواتین کے لیے کوئی باعزت ٹرانسپورٹ موجود نہیں، بجلی، پانی کے لیے عوام جگہ جگہ احتجاج کر رہے ہیں، جماعت اسلامی کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے ساتھ ہے، کراچی کے عوام کا ہر مسئلہ جماعت اسلامی کا مسئلہ ہے، جماعت اسلامی پُر امن عوامی و جمہوری جدو جہد اور بات چیت پر یقین رکھتی ہے لیکن کراچی کے عوام کے حق کے لیے خاموش نہیں رہے گی۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک اور حکمرانوں کے لیے شرم کا مقام ہے کہ مائیں،بہنیں سڑک پر بیٹھ کر احتجاج اور بجلی کا مطالبہ کر رہی ہیں، عوام بجلی کے بل جمع کرواتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو بجلی نہیں دی جاتی، بجلی کے بلوں میں درجنوں قسم کے ناجائز ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں، عوام کو آئین کے مطابق جو حقوق حاصل ہیں حکومت عوام کو وہ حق دینے پر تیار نہیں، جو حکومت عوام کو ان کا حق نہ دے سکے اسے حکومت کرنے کا بھی کوئی اختیار نہیں، کراچی کے عوام کے حق اور مسائل کے حل کے لیے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں ”حق دو کراچی کو تحریک“ جاری رہے گی، ہم حکومت پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اگر عوام کے مسائل حل نہیں ہوئے تو ہماری تحریک صرف کے الیکٹرک کے خلاف نہیں بلکہ”حکومت ہٹاؤ تحریک“میں بدل جائے گی، محمد اشرف نے کہا کہ ہمارا احتجاج اور دھرنا مسائل کے حل اور مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا، پیپلز پارٹ…
58


