**صنعا (ایچ آراین ڈبلیو)** — یمنی حوثی تحریک کے ترجمان نے امریکا اور سعودی عرب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امریکی حمایت یافتہ قوتوں کا انجام قریب ہے اور وقت کے ساتھ ان کے بارے میں حقائق سامنے آ رہے ہیں۔
حوثی ترجمان نے اپنے بیان میں سعودی قیادت پر بھی سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک امریکی پالیسیوں کے زیرِ اثر ہیں۔ انہوں نے سعودی حکومت پر مظلوم مسلمانوں کے خون میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ عرب ممالک اپنے بنیادی مذہبی و اخلاقی فرائض سے دور ہو چکے ہیں۔
ترجمان نے بیت المقدس کے دفاع کے حوالے سے کہا کہ یمن کی جانب سے عالمِ عرب کو بارہا دعوت دی گئی ہے اور یہ دعوت اب بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق فلسطین اور بیت المقدس کے معاملے میں عرب اور مسلم دنیا کو عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔
حوثی ترجمان نے مزید کہا کہ ان کی تحریک اللہ کی مدد پر یقین رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے اور ان کے بقول اللہ تعالیٰ نے مجاہدین سے فتح کا وعدہ کیا ہے۔
ان بیانات میں اسرائیل کے خلاف بھی انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی۔ تاہم ان دعوؤں اور سیاسی الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران فریقین کے بیانات کو ان کے سیاسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
## Human Angle
خطے کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سب سے بڑا انسانی اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔ فلسطین، یمن اور دیگر تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، انسانی امداد تک رسائی اور بین الاقوامی انسانی حقوق و قوانین کی پاسداری بنیادی ترجیحات ہونی چاہئیں۔ اختلافات اور سیاسی تنازعات کا حل انسانی جانوں کے تحفظ اور پُرامن سفارتی ذرائع کے ذریعے تلاش کیا جانا ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے دنیا بھر سے اہم انسانی حقوق کے معاملات اجاگر کرتا ہے۔ HRNW کے اس عظیم مشن کو جاری رکھنے کے لیے آپ کی اخلاقی اور مالی معاونت اہم ہے۔
**HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**اہم نوٹ / Disclaimer:**
یہ خبر بیرونی طور پر فراہم کردہ بیانات اور دعوؤں پر مبنی ہے۔ HRNW ان بیانات میں موجود الزامات یا دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کی ذمہ داری نہیں لیتا۔ کسی بھی الزام یا دعوے کو حتمی حقیقت تصور کرنے کے بجائے متعلقہ فریقین کا مؤقف اور دستیاب شواہد بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔


