26

جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر عارف ساقی پر مبینہ تشدد میں دو افراد گرفتار

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** کراچی کے علاقے صفورا چورنگی کے قریب جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر عارف خان ساقی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد تعلیمی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق واقعہ سچل تھانے کی حدود میں صفورا چورنگی کے قریب واقع سندھ گرین ہوٹل کے اطراف پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر واقعے کی وجہ گاڑی ٹکرانے کا تنازع بتایا گیا ہے، جبکہ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ ہوٹل کے مالک کے بیٹے کے گن مینوں نے ڈاکٹر عارف ساقی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب ڈاکٹر عارف ساقی نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ گرین ہوٹل کے مالک کے بیٹے حنین نے ان پر پستول کے بٹ سے حملہ کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔ پولیس نے فی الحال ہوائی فائرنگ کے دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

واقعے کے بعد ڈاکٹر عارف ساقی کو سچل تھانے منتقل کیا گیا، جہاں دستیاب رپورٹس کے مطابق ان کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ بعض رپورٹس میں واقعے کے سلسلے میں دو افراد کی گرفتاری کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔

ڈاکٹر عارف خان ساقی جامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ سے طویل عرصے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ کراچی سے متعلق سابقہ رپورٹس میں انہیں شعبہ علومِ اسلامیہ کا چیئرمین/صدر قرار دیا گیا ہے، جبکہ ان کی علمی سرگرمیوں اور مختلف تعلیمی و تحقیقی پروگراموں میں شرکت کا بھی ریکارڈ موجود ہے۔

واقعے پر تعلیمی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک استاد یا کسی بھی شہری کے ساتھ مبینہ تشدد کا معاملہ محض ذاتی تنازع تک محدود نہیں رہتا بلکہ قانون کی بالادستی، شہری تحفظ اور اداروں کی ذمہ داریوں سے بھی جڑ جاتا ہے۔

متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی **شفاف، غیر جانب دارانہ اور مکمل تحقیقات** کی جائیں، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے، تمام فریقین کا مؤقف ریکارڈ کیا جائے اور اگر کسی شخص کے خلاف الزامات ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

## انسانی حقوق کا زاویہ

کسی بھی شہری، خصوصاً ایک تعلیمی ادارے سے وابستہ استاد کے خلاف تشدد کے الزامات شہری سلامتی، انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی سے متعلق اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ ایسے معاملات میں ضروری ہے کہ طاقتور یا بااثر افراد کے حوالے سے بھی قانون یکساں طور پر نافذ ہو اور متاثرہ شخص کو مؤثر قانونی تحفظ اور انصاف تک رسائی حاصل ہو۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور عوامی مفاد کی آزادانہ صحافت جاری رکھنے کے لیے **ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### ڈس کلیمر

یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس، پولیس سے منسوب ابتدائی معلومات اور ڈاکٹر عارف ساقی کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تشدد، ہوائی فائرنگ یا کسی فرد کے ملوث ہونے سے متعلق الزامات کو حتمی ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔ حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات اور مجاز عدالت کے فیصلے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

**اہم:** میں نے آپ کے ابتدائی متن میں موجود “انتہائی شفاف کردار”، “شرافت زدہ زندگی” اور دیگر شخصی تعریفوں کو خبر میں بطور ثابت شدہ حقیقت شامل نہیں کیا، بلکہ خبر کو قابلِ تصدیق واقعات اور منسوب بیانات تک محدود رکھا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں