**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا **محمد سہیل خان آفریدی** نے کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب **مریم نواز** کے حالیہ بیان پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے صوبوں کے عوام کو تقسیم کرنے کی مخالفت کی ہے۔
سہیل آفریدی نے مریم نواز کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے مؤقف سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام سے سکیورٹی خطرات وابستہ کیے جا رہے ہیں، جبکہ بھارت سے خطرے کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ کسی بھی صوبے کے عوام کو دہشت گردی سے جوڑنا مناسب نہیں اور ایسے بیانات سے صوبوں کے درمیان فاصلے پیدا ہوسکتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی عناصر اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے مخالفین کو دہشت گرد قرار دینے سمیت کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ایسے طرزِ عمل سے معاشرے میں مزید تقسیم پیدا ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے عوام کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کے بجائے **اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام** کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے مختلف صوبوں کے عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ملک کے امن اور ترقی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بلوچستان اور دیگر سکیورٹی خطرات سے متعلق حالیہ ریمارکس پر سیاسی سطح پر بحث جاری ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
پاکستان ایک کثیرالثقافتی اور کثیرالصوبائی ملک ہے، جہاں مختلف قومیتوں اور صوبوں کے شہریوں کے درمیان باہمی احترام اور مساوی حقوق کا فروغ قومی یکجہتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے کسی مخصوص صوبے، قومیت یا لسانی گروہ کے تمام افراد کو اجتماعی طور پر ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اختلافِ رائے کے باوجود سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن، برداشت اور قومی اتحاد کو فروغ دینے والا طرزِ بیان اختیار کرے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے منسوب بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں موجود سیاسی الزامات اور دعوے متعلقہ سیاسی شخصیت کے مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں اور انہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا گیا۔


