6

حیدرآباد میں کار پر فائرنگ کا واقعہ، پولیس کا 3 گھنٹوں میں 4 ملزمان گرفتار کرنے کا دعویٰ

**حیدرآباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**حیدرآباد پولیس نے لطیف آباد کی حدود میں کار پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث چار ملزمان کو محض تین گھنٹوں کے اندر گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایک ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس حیدرآباد کے ترجمان کے مطابق ایس ایس پی حیدرآباد **شاہزیب چاچڑ** کی ہدایات پر اے ایس پی یو ٹی **ڈاکٹر ورزان علی** کی قیادت میں پولیس نے کارروائی کی۔

پولیس کے مطابق تھانہ اے سیکشن کی حدود میں آٹو بھان روڈ پر ماجی ہسپتال سے پونے سات ٹریفک چوکی کے درمیان شام تقریباً ساڑھے 6 بجے دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار افراد نے کار سوار شہری **اختر علی خواجہ** پر فائرنگ کی۔

اطلاع ملنے پر پولیس نے فوری طور پر داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی دوران ملزمان نے مبینہ طور پر پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے تھانہ حالی روڈ کی حدود میں اپنے ایک ساتھی کو فائرنگ کرکے زخمی کیا اور واقعے کو جھگڑے کے دوران پیش آنے والا واقعہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔

پولیس کے مطابق اے ایس پی یو ٹی ڈاکٹر ورزان علی نے ایس ایچ او سائٹ **شوکت ملوکانی** اور ایڈیشنل ایس ایچ او اے سیکشن انسپکٹر **ندیم رضوی** کے ہمراہ دونوں واقعات کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کیں۔

تحقیقات کے دوران سیف سٹی پروجیکٹ کی مدد سے دونوں واقعات سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی گئی اور شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

پولیس کے مطابق فریادی اختر علی خواجہ نے فائرنگ کرنے والے افراد کی شناخت **زوہیب شاہ ولد جہانزیب شاہ پٹھان، رحمت شاہ، رجب علی شاہ اور بلال شاہ** کے نام سے کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ فائرنگ مبینہ طور پر **جہانزیب شاہ پٹھان** کے کہنے پر کی گئی، جبکہ فریادی اور جہانزیب شاہ پٹھان کے درمیان رقم اور پراپرٹی کے معاملے پر تنازع بھی بتایا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق تھانہ حالی روڈ کی حدود میں فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص بھی کار پر فائرنگ کے واقعے میں اپنے دیگر ساتھیوں سمیت مبینہ طور پر ملوث تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان نے خود کو زخمی کرکے فریادی کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروانے کی کوشش کی۔

حیدرآباد پولیس کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے **رجب علی شاہ، بلال شاہ، زخمی ملزم رحمت شاہ اور فائرنگ کروانے کے الزام میں جہانزیب شاہ پٹھان** کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ **زوہیب شاہ پٹھان** کی گرفتاری کے لیے پولیس کارروائیاں جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان رجب علی شاہ، بلال شاہ اور رحمت شاہ نے بیان دیا کہ انہوں نے جہانزیب شاہ پٹھان کے کہنے پر اختر علی خواجہ پر فائرنگ کی۔

پولیس نے گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش شروع کردی ہے جبکہ واقعے میں استعمال ہونے والے اسلحے اور دیگر شواہد کی برآمدگی کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔

پولیس کے مطابق فریادی اختر علی خواجہ کی مدعیت میں تھانہ اے سیکشن میں **مقدمہ کرائم نمبر 388/2026** زیرِ دفعات **324، 109، 427 اور 34 تعزیراتِ پاکستان** درج کرلیا گیا ہے۔

مزید تفتیش جاری ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

فائرنگ اور جرائم کے واقعات میں قانون کے مؤثر نفاذ کے ساتھ ساتھ شفاف اور غیر جانب دارانہ تفتیش بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ گرفتار افراد کو قانون کے مطابق اپنے دفاع اور عدالتی کارروائی کا حق حاصل ہے، جبکہ جرم ثابت ہونے تک کسی شخص کو حتمی طور پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پولیس کے لیے ضروری ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، اسلحے اور دیگر شواہد کو قانونی طریقۂ کار کے مطابق محفوظ کرکے تحقیقات کو شفاف انداز میں آگے بڑھایا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اور متاثرہ فریق کو انصاف فراہم ہو۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر ڈسٹرکٹ پولیس حیدرآباد کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز اور پولیس کے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ملزمان پر عائد الزامات اور پولیس کی جانب سے بیان کردہ ابتدائی تفتیشی نتائج عدالتی فیصلے نہیں ہیں۔ الزامات کی حتمی حیثیت عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد طے ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں