**کوئٹہ (ایچ آراین ڈبلیو)** بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ نوشکی، مستونگ اور کھڈکوچہ سے علاقہ مکینوں کی مبینہ بیدخلی اور برسوں سے آباد باغات کی کٹائی بلوچ علاقوں پر قبضہ گیری کی واضح مثال ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ ریاست کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ طاقتور کا مقابلہ نہ کرسکنے کی صورت میں اپنی ناکامی اور غصے کا اظہار اسی انداز میں کیا جاتا ہے اور خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے اقدامات کے نتائج توقعات کے برعکس سامنے آ رہے ہیں اور ریاست کے خلاف نفرت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے بقول یہ نفرتیں نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں گی۔
سردار اختر جان مینگل نے نوشکی، مستونگ اور کھڈکوچہ میں مقامی آبادی کو درپیش مسائل اور مبینہ بیدخلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بلوچ عوام کے حقوق، زمینوں اور باغات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کے تحفظ اور ان کے جائز حقوق کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ لوگوں کو اپنی آبائی زمینوں اور معاشی وسائل سے محروم ہونے سے بچایا جا سکے۔
## انسانی پہلو (Human Angle)
مقامی آبادی کی مبینہ بیدخلی اور زرعی زمینوں و باغات کو نقصان پہنچنے سے خاندانوں کے رہائش، روزگار اور معاشی تحفظ پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات، مقامی آبادی کی شمولیت اور قانون کے مطابق حقوق کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
## HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، عوامی مسائل اور اہم قومی معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے آزادانہ صحافتی خدمات فراہم کرتا ہے۔ آپ کا تعاون اس مشن کو جاری رکھنے میں مددگار ہے۔
**HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے:**
[HRNW Support](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:** اس خبر میں بیان کردہ بیدخلی، قبضہ گیری اور دیگر الزامات متعلقہ سیاسی رہنما کے بیان پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔


