6

سندھ یونیورسٹی سوسائٹی میں ایمینٹی پلاٹس پر قبضے کا الزام، انتظامیہ کا احتجاج

**جامشورو — (ایچ آراین ڈبلیو)**سندھ یونیورسٹی سوسائٹی میں ایمینٹی پلاٹس پر مبینہ قبضے اور دکانوں کی تعمیراتی سرگرمیوں میں انتظامی مداخلت کے معاملے پر سوسائٹی کی مینجمنٹ کمیٹی کے ارکان اور رہائشیوں نے احتجاج کیا۔

رپورٹ کے مطابق سوسائٹی کے ارکان نے پریس کلب کے سامنے احتجاج کے بعد کمشنر حیدرآباد کے دفتر کا رخ کیا، جہاں انہوں نے ڈپٹی کمشنر جامشورو اور اسسٹنٹ کمشنر کوٹری کی جانب سے دکانوں کی تعمیراتی سرگرمی میں مبینہ مداخلت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کمشنر حیدرآباد کو یادداشت پیش کی۔

احتجاج کے دوران کمیٹی کے ارکان کی جانب سے بطور احتجاج استعفے بھی جمع کرائے گئے۔

سوسائٹی کے سیکریٹری **منور علی ناریجو** نے الزام عائد کیا کہ سندھ یونیورسٹی سوسائٹی میں بااثر افراد ایمینٹی پلاٹس پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ان کے مطابق ڈپٹی کمشنر جامشورو قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے سوسائٹی میں قانونی تقاضوں کے تحت تعمیر کی جانے والی دکانوں کا کام رکوانے پر بضد ہیں۔

کمیٹی کے مؤقف کے مطابق سوسائٹی کے بائی لاز اور منظور شدہ نقشے کے تحت ایک ایکڑ کمرشل زمین پر دکانوں کی تعمیر کا کام جاری ہے، تاہم انتظامیہ کی جانب سے اس تعمیراتی سرگرمی میں بلاجواز مداخلت کی جا رہی ہے۔

منور علی ناریجو کا کہنا تھا کہ اگر ڈپٹی کمشنر جامشورو کو تعمیراتی کام یا سوسائٹی کے کسی معاملے میں کوئی غلطی یا غیر قانونی عمل نظر آ رہا ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

سوسائٹی کی مینجمنٹ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایمینٹی پلاٹس پر مبینہ قبضے کی کوششوں کی تحقیقات کی جائیں اور تعمیراتی سرگرمیوں سے متعلق تمام معاملات کو سوسائٹی کے منظور شدہ بائی لاز، نقشے اور قانونی تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جامشورو اور اسسٹنٹ کمشنر کوٹری کا مؤقف اس رپورٹ میں شامل نہیں ہوسکا۔ ان کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

رہائشی علاقوں میں ایمینٹی اور کمرشل زمین کے استعمال سے متعلق معاملات براہِ راست عوامی سہولیات، شہری منصوبہ بندی اور رہائشیوں کے مفادات سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایسے تنازعات میں شفاف ریکارڈ، منظور شدہ نقشوں، سوسائٹی کے بائی لاز اور متعلقہ قوانین کی پابندی ضروری ہے۔

اگر کسی زمین پر قبضے یا غیر قانونی تعمیرات کے الزامات موجود ہوں تو متعلقہ اداروں کو غیر جانب دارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق واضح کرنے چاہئیں، جبکہ کسی بھی فریق کے خلاف کارروائی قانون اور مناسب طریقۂ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر سوسائٹی کی مینجمنٹ کمیٹی اور سیکریٹری منور علی ناریجو کی جانب سے بیان کیے گئے مؤقف اور الزامات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ایمینٹی پلاٹس پر قبضے، تعمیراتی سرگرمیوں میں مداخلت یا کسی غیر قانونی اقدام سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق اس رپورٹ میں نہیں کی گئی۔ متعلقہ سرکاری حکام کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں