**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — 25 کروڑ پاکستانی عوام سے صرف 9 ماہ میں **12 کھرب روپے** کا بھتہ وصول کیا جا چکا ہے، جبکہ حکمران ایک ارب ڈالر کے لیے دنیا کے سامنے بھیک مانگتے ہیں، لیکن پاکستانیوں سے صرف 9 ماہ میں **ساڑھے 4 ارب ڈالر** وصول کیے جا چکے ہیں۔
عوام کی حالت اور شعور کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص کسی کو ایک ہزار روپے دینے سے انکار کرے تو لڑائی جھگڑے پر اتر آتا ہے، لیکن حکومت ماہانہ بنیادوں پر عوام کی جیبوں سے ہزاروں روپے مختلف ٹیکسوں، سرچارجز اور اضافی چارجز کی صورت میں نکال رہی ہے، جس پر عوام کی جانب سے کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آتا۔
سوال یہ ہے کہ **جو عوام ایک ہزار روپے پر لڑنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے، وہ حکومت کی جانب سے ماہانہ ہزاروں روپے وصول کیے جانے پر خاموش کیوں ہے؟**
### انسانی پہلو
عوام پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کا براہِ راست اثر عام شہری کے گھریلو بجٹ، خوراک، تعلیم، صحت اور روزمرہ ضروریات پر پڑتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ عوام اپنے معاشی حقوق اور ٹیکسوں کے بوجھ کے بارے میں کب مؤثر آواز اٹھائیں گے؟
### HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) آزادانہ صحافت، انسانی حقوق اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔
[HRNW کو سپورٹ کریں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
اس خبر میں شامل اعداد و شمار اور دعوے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں۔ متعلقہ اعداد و شمار کی سرکاری تصدیق یا تفصیلات میں تبدیلی کی صورت میں اسے اسی کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔


