**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** وفاقی وزیر صحت **سید مصطفیٰ کمال** نے کہا ہے کہ حکومت کو سرکاری اسپتال چلانے کے بجائے صحت کے شعبے میں متبادل نظام پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ سرکاری اسپتالوں کے حوالے سے حکومت کو عوام کی بددعاؤں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ملک کا مجموعی **ہیلتھ بجٹ 1,556 ارب روپے** ہے، جبکہ تقریباً **210 ارب روپے** کے ذریعے ملک بھر کے عوام کو یونیورسل ہیلتھ فیسیلٹی فراہم کی جاسکتی ہے۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق صحت کی سہولیات تک عوام کی یکساں اور آسان رسائی یقینی بنانے کے لیے موجودہ نظام میں بہتری اور مؤثر پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ محدود وسائل کو کس طرح زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ملک کے ہر شہری کو بنیادی اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔
### انسانی حقوق کا پہلو
**صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی بنیادی انسانی حق** اور عوامی فلاح کا اہم حصہ ہے۔ سرکاری یا متبادل نظام، دونوں صورتوں میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو بروقت، معیاری اور قابلِ رسائی علاج کی سہولت فراہم کی جائے، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات کے لیے۔
### انسانی حقوق سپورٹ اپیل
**ایچ آراین ڈبلیو (HRNW)** انسانی حقوق، صحت، قانون کی حکمرانی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی حمایت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### ڈسکلیمر
یہ خبر وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ بجٹ اور یونیورسل ہیلتھ فیسیلٹی سے متعلق اعداد و شمار اور تجاویز حکومتی مؤقف کے طور پر بیان کیے گئے ہیں۔


