55

چالیس برس کی شب و روز محنت کے بعد پورا ہوا خواب

مکہ المکرمہ (ایچ آراین ڈبلیو) خانہ کعبہ کا دیدار ہر مسلمان کا خواب ہے، اور جب یہ خواب چالیس برس کی شب و روز محنت کے بعد پورا ہو، تو وہ لمحہ تقدس، آنسوؤں اور عقیدت کا حسین امتزاج بن جاتا ہے۔ انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے محنت کش جوڑے نے اسی خواب کو حقیقت میں بدل کر دنیا کو عزم، قربانی اور ایمان کی روشن مثال پیش کی۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق لیگیمین نامی شخص اور اس کی اہلیہ جو کہ صفائی کا کام کرتے ہیں، 40 برس تک محنت مزدوری کرکے ایک ایک روپیہ جوڑتے رہے تاکہ وہ ایک دن حج کی سعادت حاصل کر سکیں۔ مشکلات، تنگ دستی، اور محدود وسائل کے باوجود ان کا ایمان کبھی متزلزل نہ ہوا۔

بزرگ شخص نے جذبات سے لبریز لہجے میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا،

> “مجھے یقین نہیں آ رہا کہ میری آنکھیں خانہ کعبہ کا دیدار کریں گی۔ 1986 میں ہم نے یہ عہد کیا تھا کہ چاہے جتنی بھی مشکلات ہوں، حج ضرور کریں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کے بعد وہ ان تمام افراد کا شکر گزار ہے جنہوں نے ان کی مدد کی، بالخصوص مکہ روٹ انیشی ایٹو کا، جس کی بدولت حج کا عمل ان جیسے افراد کے لیے آسان اور قابلِ رسائی ہو سکا۔

یہ کہانی صرف ایک جوڑے کی نہیں، بلکہ اس جوش ایمانی کی علامت ہے جو ہر اس دل میں پلتا ہے جو رب کے گھر کی زیارت کا متمنی ہوتا ہے۔ حج صرف مالی وسعت کا نہیں، بلکہ روحانی پکار کا سفر ہے—اور لیگیمین و زوجہ نے ثابت کر دیا کہ صدق دل اور مسلسل کوشش سے ہر خواب کو تعبیر ملتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں