7

درخشاں پولیس مقابلہ اپڈیٹ: گرفتار زخمی ملزمان کا مبینہ کریمنل ریکارڈ سامنے آگیا

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** ڈسٹرکٹ ساؤتھ کراچی کی **تھانہ درخشاں پولیس** نے گزشتہ شب پولیس مقابلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے دو ملزمان کا مبینہ کریمنل ریکارڈ حاصل کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان متعدد سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں، جبکہ ایک ملزم اشتہاری مفرور بھی پایا گیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت **عدیل ولد مختیار احمد** اور **محمد فیاض ولد محمد عارف** کے ناموں سے ہوئی ہے۔

کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے **دو عدد 30 بور بلا نمبری پستول، لوڈ میگزین، تین زندہ راؤنڈ، دو چیمبر راؤنڈ، ایک iTel ٹچ اسکرین موبائل فون** اور **بغیر نمبر پلیٹ ہونڈا 125 موٹرسائیکل** برآمد کی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا موبائل فون **تھانہ بوٹ بیسن** کے مقدمہ نمبر **170/2026** میں شہری سے چھینا گیا تھا، جبکہ موٹرسائیکل کا اصل رجسٹریشن نمبر **KQE-2066** نکلا، جو اسلحے کے زور پر چھینے جانے کے مقدمے میں مطلوب تھی۔

پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش ملزمان نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ **ڈیفنس، کلفٹن** اور کراچی کے دیگر علاقوں میں اسٹریٹ کرائم، ڈکیتی، موٹرسائیکل اسنیچنگ، پولیس مقابلوں اور دیگر سنگین جرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔

مزید تفتیش میں ملزمان نے تھانہ درخشاں کی حدود میں **بدر کمرشل ذائقہ ہوٹل** کے قریب اور **خیابان بحریہ روڈ** پر ایک کوریئر رائیڈر سے ڈکیتی کی وارداتوں کا بھی مبینہ اعتراف کیا، جن کے مقدمات نمبر **434/2026** اور **549/2026** پولیس ریکارڈ میں درج ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان کا سابقہ ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے، جس میں **تھانہ شرافی گوٹھ، درخشاں، کلفٹن اور کلاکوٹ** میں پولیس مقابلہ، ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کے مقدمات شامل ہیں۔ ملزم **عدیل** کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایک مقدمے میں **اشتہاری مفرور** بھی تھا۔

تھانہ درخشاں میں ملزمان کے خلاف **تین نئے مقدمات** درج کر لیے گئے ہیں، جن میں پولیس پر حملہ اور **سندھ آرمز ایکٹ** کے تحت مقدمات شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ ان کے دیگر مبینہ ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد کا پہلو

جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر گرفتار شخص کو آئین اور قانون کے مطابق منصفانہ سماعت اور قانونی دفاع کا حق حاصل ہے، جبکہ کسی بھی الزام کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت شواہد کی بنیاد پر کرتی ہے۔

### **Support HRNW — ہماری آزاد صحافت کو سپورٹ کریں**

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** امن و امان، قانون کی حکمرانی، عوامی تحفظ اور انسانی حقوق سے متعلق آزاد، ذمہ دارانہ اور متوازن صحافت کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔

آپ کا تعاون آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی آگاہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

**ڈسکلیمر:** یہ خبر کراچی پولیس کے جاری کردہ بیان اور ابتدائی تفتیشی معلومات پر مبنی ہے۔ ملزمان کے خلاف عائد الزامات کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں