کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) آغا خان یونیورسٹی، کراچی کے فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر و ایسوسی ایٹ ڈین (ریسرچ) ڈاکٹر ڈوین روسیل(Dr. Duane Rousselle )نے کہا ہے کہ حیرت، اظہارِ خیال اور گفتگو علمی و تحقیقی عمل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان بعض اوقات اظہار کے دوران ایسے نئے معانی اور امکانات دریافت کرتا ہے جو پہلے سے اس کے شعور میں موجود نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ غیر متوقع دریافتیں اکثر گفتگو کے ذریعے سامنے آتی ہیں، خواہ وہ زبان کی غیر ارادی لغزش ہو یا کوئی ایسی بات جو انسان نے اس سے قبل کبھی بیان نہ کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کسی علم یا تصور کی مضبوط ادارہ جاتی بنیاد موجود نہ ہو، وہاں اس موضوع پر گفتگو ایک اہم علمی موقع فراہم کرتی ہے۔پاکستان میں کے سائیکوانالیسس حوالے سے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ڈوین روسیل نے کہا کہ اگرچہ اس شعبے کا پاکستان میں مستحکم ادارہ جاتی پس منظر موجود نہیں، تاہم یہی صورتِ حال نئے علمی زاویوں اور امکانات کی تشکیل کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ گفتگو محض خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ نئے علم، معانی اور فکری امکانات کی دریافت کا اہم وسیلہ بھی ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کے روز شعبہ نفسیات جامعہ کراچی کے زیر اہتمام دوروزہسائیکالوجی کانگریس 2026: رویّوں کے سائنسی مطالعے کا علمی نقطۂ نظرکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔افتتاحی تقریب کا اہتمام چائنیزٹیچرزمیموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں کیا گیا۔
ڈاکٹر ڈوین روسیل نے مزید کہا کہ انسانی اور پیشہ ورانہ زندگی میں حیرت، غیر یقینی اور غیر متوقع حالات کی اہمیت کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ ہمارے کام میں محض مہارت یا شخصیت ہی نہیں بلکہ ایک خاص جذبہ اور خواہش بھی کارفرما ہوتی ہے، جسے وہ عزمِ مصممقرار دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عزمِ مصمم کو بعض اوقات جمود، تعصب یا حاکمیت پسندی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ یہ غیر یقینی سے فرار کے بجائے حیرت اور غیر متوقع حالات کا کھلے دل سے سامنا کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
ڈاکٹر روسیل نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم اپنی ذاتی، پیشہ ورانہ اور ادارہ جاتی زندگی میں آنے والی ناگزیر حیرتوں کا سامنا کرنے اور خود کو ان کے درمیان برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی میں بہت سے عوامل ایسے ہیں جو کسی منصوبے یا پیش گوئی کے تابع نہیں ہوتے۔
انہوں نے زور دیا کہ علم اور فکری عمل کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان غیر یقینی اور حیرت سے فرار کے بجائے انہیں سمجھنے اور ان کے ساتھ بامعنی انداز میں پیش آنے کی صلاحیت پیدا کرے۔
پروفیسر ڈاکٹر امینڈا کلنٹن(Dr. Amanda Clinton)،امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن (APA) کے دفتر برائے بین الاقوامی امور کی سینئر ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر نفسیات کے شعبے میں مؤثر پیش رفت کے لیے تحقیقی و علمی کاوشوں کو مقامی اور معاشرتی حقائق سے ہم آہنگ کرتے ہوئے مستند اعداد و شمار اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھانا ضروری ہے۔
اپنے آن لائن خطاب میں انہوں نے کہا کہ عالمی نفسیات کا مقصد مختلف معاشروں کے تجربات، علم اور وسائل کو باہمی تعاون کے ذریعے بروئے کار لاتے ہوئے مشترکہ اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گلوبل سائیکالوجی الائنس 2019ء میں قائم کیا گیا، جس نے کووڈ-19 کے دوران اپنی سرگرمیوں کو وسعت دیتے ہوئے مختلف موضوعات پر وائٹ پیپرز، عملی وسائل اور رہنما مواد تیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ الائنس نے عالمی ذہنی صحت، ماحولیاتی تبدیلی، جمہوریت اور صنفی شناخت سمیت اہم موضوعات پر مختلف ثقافتی و معاشرتی تناظرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کیا۔ مصنوعی ذہانت اور نفسیات کے تعلق سے متعلق مرتب کیے گئے دس اصول بھی ماہرین کو تحقیق اور طبی و اطلاقی شعبوں میں AI کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر امینڈا کلنٹن نے کہا کہ کراچی کی جامعات کے اساتذہ اور ماہرین بھی ان عالمی علمی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے انہیں طلبہ، اساتذہ، عوام اور پالیسی سازوں تک پہنچا سکتے ہیں، جس سے صحت، تعلیم، پالیسی سازی اور معاشرتی بہبود کے لیے زیادہ مؤثر اور شواہد پر مبنی اقدامات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
صدرشعبہ نفسیات جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال نے کہا ہے کہسائیکولوجی کانگریس 2026 انسانی رویّوں کو بدلتے ہوئے معاشرتی، ثقافتی اور ٹیکنالوجی کے تناظر میں سمجھنے اور نفسیاتی علوم کے فروغ کے لیے ایک اہم علمی پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا موضوع ’’بدلتی دنیا میں انسانی رویّے: ذہن، معاشرے اور ٹیکنالوجی کے لیے بصیرت‘‘ موجودہ دور کے اہم چیلنجز کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خصوصاً جنریشن زی اور جنریشن الفا ڈیجیٹل دور میں پروان چڑھ رہی ہیں، جہاں سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی نے ان کے طرزِ زندگی اور تجربات کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی تعلیم، تخلیقی صلاحیت اور عالمی روابط کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے، تاہم سائبر بُلنگ، ذہنی دباؤ، غیر حقیقی سماجی تقابل، اسکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال اور غلط معلومات جیسے مسائل بھی نوجوانوں کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔
جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کی پروفیسر ڈاکٹر انیلا امبرملک نے کہا کہ نفسیاتی نگہداشت کا مستقبل تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جس میں رویہ جاتی علوم، ترسیلی تحقیق، سماجی عوامل اور جدید ٹیکنالوجی بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ذہنی صحت کی خدمات کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور محدود وسائل کے پیشِ نظر نگہداشت کے موجودہ طریقۂ کار پر ازسرِنو غور ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیبارٹری سے عملی زندگی تک کے سفر کے ذریعے تحقیقی نتائج کو حقیقی انسانی مسائل اور معاشرتی ضروریات سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈاکٹر انیلاامبر ملک نے کہا کہ نفسیاتی تحقیق کو مختلف ثقافتی اور سماجی ماحول سے ہم آہنگ، جامع اور انسان مرکز بنانا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی انسانی رویوں اور باہمی تعلقات کو تیزی سے متاثر کر رہی ہیں، اس لیے ان کے مثبت استعمال کے ساتھ ممکنہ خطرات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے عالمی بحرانوں، موسمیاتی تبدیلی، سیاسی عدم استحکام اور مسلح تنازعات کے انسانی نفسیات پر اثرات کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نفسیات ایک عبوری دور سے گزر رہی ہے اور نگہداشت کا مستقبل مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کی نفسیات بہترین علمی صلاحیت، گہری ہمدردی اور انسانی فلاح و بہبود کے لیے غیر متزلزل عزم کا تقاضا کرتی ہے۔
رئیس کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ جامعات اور علمی کانفرنسیں تحقیق، مکالمے، باہمی تعاون اور نئی سوچ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ٹیکنالوجی، عالمگیریت اور بدلتے سماجی حالات نے انسانی طرزِ زندگی اور رویّوں کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے، جس کے باعث رویّہ جاتی اور سماجی علوم میں تحقیق کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ڈاکٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ نئی نسل کے سوچنے، سیکھنے اور معاشرے سے جڑنے کے انداز میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، جس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال، ذہنی و سماجی بہبود اور بامعنی انسانی روابط جیسے نئے چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے شعبہ نفسیات کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کانگریس قومی و عالمی سطح کے اہم مسائل پر بامعنی علمی مکالمے اور تحقیقی اشتراک کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔
شعبہ نفسیات جامعہ کراچی کی پروفیسرڈاکٹر قدسیہ طارق نے کلمات تشکر اداکئے جبکہ پروفیسرڈاکٹر فرخ زیڈ احمد نے خطاب کیا۔اس دورزہ کانگریس میں مختلف قومی اور بین الاقوامی اسکالرز اپنے اپنے مقالہ جات پیش کریں گے اور اپنے خیالا ت کا اظہارکریں گے۔


